مُعَاوِيَةُ ، شَيْبَانُ ، فِرَاسٍ ، عَطِيَّةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا تَطَهَّرَ الرَّجُلُ فَأَحْسَنَ الطُّهُورَ، ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ، فَلَمْ يَلْغُ وَلَمْ يَجْهَلْ حَتَّى يَنْصَرِفَ الْإِمَامُ، كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ، وَفِي الْجُمُعَةِ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا رَجُلٌ مُؤْمِنٌ يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ، وَالْمَكْتُوبَاتُ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص وضو کرے اور خوب اچھی طرح کرے، پھر جمعہ کے لئے آئے اور کوئی لغو کام کرے اور نہ ہی جہالت کا کوئی کام کرے، یہاں تک کہ امام واپس چلا جائے تو یہ اگلے جمعے تک اس کے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا اور جمعہ کے دن میں ایک گھڑی ایسی ضرور آتی ہے جو اگر کسی مسلمان کو مل جائے تو وہ اس میں اللہ سے جو سوال کرے، اللہ اسے ضرور عطاء فرمائے گا اور فرض نمازوں کے درمیانی وقت کے لئے کفارہ بن جاتی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11347]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي