أَبُو النَّضْرِ ، شَرِيكٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" تَزْعُمُونَ أَنَّ قَرَابَتِي لَا تَنْفَعُ قَوْمِي، وَاللَّهِ إِنَّ رَحِمِي مَوْصُولَةٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ يُرْفَعُ لِي قَوْمٌ يُؤْمَرُ بِهِمْ ذَاتَ الْيَسَارِ، فَيَقُولُ الرَّجُلُ: يَا مُحَمَّدُ، أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، وَيَقُولُ الْآخَرُ: أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، فَأَقُولُ: أَمَّا النَّسَبُ قَدْ عَرَفْتُ، وَلَكِنَّكُمْ أَحْدَثْتُمْ بَعْدِي، وَارْتَدَدْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ الْقَهْقَرَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم یہ سمجھتے ہو کہ میری قرابت داری لوگوں کو فائدہ نہ پہنچا سکے گی، اللہ کی قسم! میری قرابت داری دنیا اور آخرت دونوں میں جڑی رہے گی اور قیامت کے دن میرے سامنے کچھ لوگوں کو پیش کیا جائے گا جن کے متعلق بائیں جانب کا حکم ہوچکا ہوگا، تو ایک آدمی کہے گا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں فلاں بن فلاں ہوں اور دوسرا کہے گا میں فلاں بن فلاں ہوں، میں انہیں جواب دوں گا کہ تمہارا نسب تو مجھے معلوم ہوگیا لیکن میرے بعد تم نے دین میں بدعات ایجاد کرلی تھیں اور تم الٹے پاؤں واپس ہوگئے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11345]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك النخعي، ولاضطرابه
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك النخعي، ولاضطرابه