يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ابْنُ مُبَارَكٍ ، أُسَامَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَمِّهِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ أُسَامَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، فَزُورُوهَا، فَإِنَّ فِيهَا عِبْرَةً، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ النَّبِيذِ، فَاشْرَبُوا، وَلَا أُحِلُّ مُسْكِرًا، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الْأَضَاحِيِّ، فَكُلُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں قبرستان جانے سے منع کیا تھا، لیکن اب چلے جایا کرو کیونکہ اس میں سامانِ عبرت موجود ہے اور میں نے تمہیں نبیذ پینے سے منع کیا تھا لیکن اب پی سکتے ہو، تاہم میں کسی نشہ آور مشروب کی اجازت نہیں دیتا اور میں نے تمہیں قربانی کا گوشت (تین دن سے زیادہ) رکھنے سے منع کیا تھا، اب تم اسے کھاسکتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11329]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن