يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، مُجَالِدٌ ، أَبِي الْوَدَّاكِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَنِينِ يَكُونُ فِي بَطْنِ النَّاقَةِ، أَوْ الْبَقَرَةِ، أَوْ الشَّاةِ، فَقَالَ:" كُلُوهُ إِنْ شِئْتُمْ، فَإِنَّ ذَكَاتَهُ ذَكَاةُ أُمِّهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر کسی اونٹنی، گائے یا بکری کا بچہ اس کے پیٹ میں ہی مرجائے تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تمہاری طبیعت چاہے تو اسے کھاسکتے ہو کیوں کہ اس کی ماں کا ذبح ہونا دراصل اس کا ذبح ہونا ہی ہے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11260]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد بن سعيد، وقد توبع بالرواية الآتية برقم: 11343
الحكم: حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد بن سعيد، وقد توبع بالرواية الآتية برقم: 11343