ابْنُ نُمَيْرٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، نَهَارٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ نَهَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيُسْأَلُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، حَتَّى يَكُونَ فِيمَا يُسْأَلُ عَنْهُ أَنْ يُقَالَ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُنْكِرَ الْمُنْكَرَ إِذْ رَأَيْتَهُ؟"، قَالَ:" فَمَنْ لَقَّنَهُ اللَّهُ حُجَّتَهُ، قَالَ رَبِّ رَجَوْتُكَ، وَخِفْتُ النَّاسَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن تم سے ہر چیز کا حساب ہوگا، حتی کہ یہ سوال بھی پوچھا جائے گا کہ جب تم نے کوئی گناہ کا کام ہوتے ہوئے دیکھا تھا تو اس سے روکا کیوں نہیں تھا؟ پھر جسے اللہ دلیل سمجھا دے گا وہ کہہ دے گا کہ پروردگار! مجھے آپ سے معافی کی امید تھی لیکن لوگوں سے خوف تھا [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11214]
حکم دارالسلام
إسناده حسن .
الحكم: إسناده حسن .