إِسْمَاعِيلُ ، ابْنُ عَوْنٍ ، مُحَمَّدٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: فَرَدَّ الْحَدِيثَ حَتَّى رَدَّهُ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: ذُكِرَ ذَلِكَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" وَمَا ذَاكُمْ؟"، قَالُوا: الرَّجُلُ تَكُونُ لَهُ الْمَرْأَةُ تُرْضِعُ، فَيُصِيبُ مِنْهَا، وَيَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ مِنْهُ، وَالرَّجُلُ تَكُونُ لَهُ الْجَارِيَةُ، فَيُصِيبُ مِنْهَا، وَيَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ مِنْهُ، فَقَالَ:" فَلَا عَلَيْكُمْ أَنْ تَفْعَلُوا ذَاكُمْ، فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ"، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ، فَحَدَّثْتُ بِهِ الْحَسَنَ، فَقَالَ: فَلَا عَلَيْكُمْ لَكَأَنَّ هَذَا زَجْرٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ ایک آدمی کی بیوی اپنے بچے کو دودھ پلاتی ہے، وہ اس سے اپنی خواہش بھی پوری کرتا ہے اور اس کے حاملہ ہونے کو بھی اچھا نہیں سمجھتا، اسی طرح کسی شخص کی اگر باندی ہو اور وہ اس سے اپنی خواہش بھی پوری کرتا ہے لیکن اس کے حاملہ ہونے کو بھی اچھا نہیں سمجھتا، وہ کیا کرے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم یہ کام کرو تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہے، کیوں کہ یہ چیز تقدیر کا حصہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11078]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2542، م: 1438، عبدالرحمن بن بشر روى عنه جماعة، وذكره ابن حبان فى الثقات، وهو متابع .
الحكم: حديث صحيح، خ: 2542، م: 1438، عبدالرحمن بن بشر روى عنه جماعة، وذكره ابن حبان فى الثقات، وهو متابع .