بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 11073
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 11073
حدیث نمبر: 11073 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ ، أَبِيهِ ، قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَعَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: أَخْرَجَ مَرْوَانُ الْمِنْبَرَ فِي يَوْمِ عِيدٍ، وَلَمْ يَكُنْ يُخْرَجُ بِهِ، وَبَدَأَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ، وَلَمْ يَكُنْ يُبْدَأُ بِهَا، قَالَ: فَقَامَ رَجُلٍ، فَقَالَ: يَا مَرْوَانُ، خَالَفْتَ السُّنَّةَ، أَخْرَجْتَ الْمِنْبَرَ في يَوْمَ عِيدٍ، وَلَمْ يَكُنْ يُخْرَجُ بِهِ فِي يَوْمِ عِيدٍ، وَبَدَأْتَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ، وَلَمْ يَكُنْ يُبْدَأُ بِهَا، قَالَ: فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَإِنْ اسْتَطَاعَ أَنْ يُغَيِّرَهُ بِيَدِهِ فَلْيَفْعَلْ، وَقَالَ مَرَّةً: فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ بِيَدِهِ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ بِلِسَانِهِ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مروان نے عید کے دن منبر نکلوایا جو نہیں نکالا جاتا تھا اور نماز سے پہلے خطبہ دینا شروع کیا جو کہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا، یہ دیکھ کر ایک آدمی کھڑا ہو کر کہنے لگا مروان! تم نے سنت کی مخالفت کی، تم نے عید کے دن منبر نکلوایا جو کہ پہلے نہیں نکالا جاتا تھا اور تم نے نماز سے پہلے خطبہ دیا جو کہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا، اس مجلس میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بھی تھے، انہوں نے پوچھا کہ یہ آدمی کون ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ فلاں بن فلاں ہے، انہوں نے فرمایا کہ اس شخص نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جو شخص کوئی برائی ہوتے ہوئے دیکھے اور اسے ہاتھ سے بدلنے کی طاقت رکھتا ہو تو ایسا ہی کرے، اگر ہاتھ سے بدلنے کی طاقت نہیں رکھتا تو زبان سے اور اگر زبان سے بھی نہیں کرسکتا تو دل سے اسے برا سمجھے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11073]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م:49 .
الحكم: إسناده صحيح، م:49 .
← پچھلی حدیث (11072) باب پر واپس اگلی حدیث (11074) →