ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، سُلَيْمَانَ يَعْنِي التَّيْمِيَّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي التَّيْمِيَّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا أَهْلُ النَّارِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُهَا لَا يَمُوتُونَ وَلَا يَحْيَوْنَ، وَأَمَّا أُنَاسٌ يُرِيدُ اللَّهُ بِهِمْ الرَّحْمَةَ فَيُمِيتُهُمْ فِي النَّارِ، فَيَدْخُلُ عَلَيْهِمْ الشُّفَعَاءُ، فَيَأْخُذُ الرَّجُلُ الضبارة، فَيَبُثُّهُمْ أَوْ قَالَ: فَيَنْبُتُونَ عَلَى نَهَرِ الْحَيَاِ أَوْ قَالَ: الْحَيَوَانِ، أَوْ قَالَ: الْحَيَاةِ، أَوْ قَالَ: نَهَرِ الْجَنَّةِ، فَيَنْبُتُونَ نَبَاتَ الْحِبَّةِ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ"، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا تَرَوْنَ الشَّجَرَةَ تَكُونُ خَضْرَاءَ، ثُمَّ تَكُونُ صَفْرَاءَ أَوْ قَالَ: تَكُونُ صَفْرَاءَ، ثُمَّ تَكُونُ خَضْرَاء"، قَالَ: فَقَالَ بَعْضُهُمْ: كَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ بِالْبَادِيَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ جہنمی جو اس میں ہمیشہ رہیں گے، ان پر تو موت آئے گی اور نہ ہی انہیں زندگانی نصیب ہوگی، البتہ جن لوگوں پر اللہ اپنی رحمت کا ارادہ فرمائے گا، انہیں جہنم میں بھی موت دے گا، پھر سفارش کرنے والے ان کی سفارش کریں گے اور ہر آدمی اپنے اپنے دوستوں کو نکال کرلے جائے گا، وہ لوگ ایک خصوصی نہر میں " جس کا نام نہر حیاء یا حیوان یا حیات یا نہر جنت ہوگا " غسل کریں گے اور ایسے اگ آئیں گے جیسے سیلاب کے بہاؤ میں دانہ اگ آتا ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ذرا غور تو کرو کہ درخت پہلے سبز ہوتا ہے، پھر زرد ہوتا ہے، یا اس کا عکس فرمایا: اس پر ایک آدمی کہنے لگا ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جنگل میں بھی رہے ہیں (کہ وہاں کے حالات خوب معلوم ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11016]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4581، م: 185
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4581، م: 185