وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَلِيٌّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ : قُلْتُ لرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَجْمَلِ فَتَاةٍ فِي قُرَيْشٍ؟ قَالَ:" وَمَنْ هِيَ؟"، قُلْتُ: ابْنَةُ حَمْزَةَ، قَالَ:" أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا حَرَّمَ مِنَ النَّسَبِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ کو قریش کی ایک خوبصورت ترین دوشیزہ کے بارے میں نہ بتاؤں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: ”وہ کون ہے؟“ میں نے عرض کیا: سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی، فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم نہیں کہ وہ میری رضاعی بھتیجی ہے، اور اللہ تعالیٰ نے رضاعت کی وجہ سے بھی وہ تمام رشتے حرام قرار دئیے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام قرار دیئے ہیں۔“ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1096]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد، وهو ابن جدعان
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد، وهو ابن جدعان