بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 1093
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 1093
حدیث نمبر: 1093 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، نَاجِيَةَ بْنِ كَعْبٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ نَاجِيَةَ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: لَمَّا مَاتَ أَبُو طَالِبٍ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنَّ عَمَّكَ الشَّيْخَ الضَّالَّ قَدْ مَاتَ، فَقَالَ:" انْطَلِقْ فَوَارِهِ، وَلَا تُحْدِثْ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي"، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ فَوَارَيْتُهُ، فَأَمَرَنِي فَاغْتَسَلْتُ، ثُمَّ دَعَا لِي بِدَعَوَاتٍ مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِهِنَّ مَا عَرُضَ مِنْ شَيْءٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ابوطالب کا انتقال ہو گیا تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ آپ کا بوڑھا اور گمراہ چچا مر گیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جا کر اسے کسی گڑھے میں چھپا دو، اور میرے پاس آنے سے پہلے کسی سے کوئی بات نہ کرنا۔ چنانچہ میں گیا اور اسے ایک گڑھے میں چھپا دیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے بعد مجھے غسل کرنے کا حکم دیا اور مجھے اتنی دعائیں دیں کہ ان کے مقابلے میں کسی وسیع و عریض چیز کی میری نگاہوں میں کوئی حیثیت نہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1093]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر
الحكم: إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر
← پچھلی حدیث (1092) باب پر واپس اگلی حدیث (1094) →