بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 10918
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 10918
حدیث نمبر: 10918 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو أَحْمَدَ ، جَابِرُ بْنُ الْحُرِّ النَّخَعِيُّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، كُمَيْلِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ , حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ الْحُرِّ النَّخَعِيُّ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ , عَنْ كُمَيْلِ بْنِ زِيَادٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ , فَقَالَ:" يَا أَبَا هُرَيْرَةَ , هَلَكَ الْأَكْثَرُونَ , إِلَّا مَنْ قَالَ: هَكَذَا وَهَكَذَا , وَقَلِيلٌ مَا هُمْ" فَمَشَيْتُ مَعَهُ , ثُمَّ قَالَ:" أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ" . قَالَ: ثُمَّ قَالَ:" يَا أَبَا هُرَيْرَة تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ؟" , قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ: " حَقُّهُ أَنْ يَعْبُدُوهُ , لَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا" , ثُمَّ قَالَ:" تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ , فَإِنَّ حَقَّهُمْ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ , أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ" , قُلْتُ: أَفَلَا أُخْبِرُهُمْ , قَالَ:" دَعْهُمْ فَلْيَعْمَلُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ اہل مدینہ میں سے کسی کے باغ میں چلا جارہا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے ابوہریرہ! مال و دولت کی ریل پیل والے لوگ ہلاک ہوگئے سوائے ان لوگوں کے جو اپنے ہاتھوں سے بھر بھر کر دائیں بائیں اور آگے تقسیم کریں لیکن ایسے لوگ بہت تھوڑے ہیں پھر کچھ دیر چلنے کے بعد فرمایا ابوہریرہ! کیا میں تمہیں جنت کا ایک خزانہ نہ بتاؤں؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیوں نہیں فرمایا یوں کہا کرو لاحول ولاقوۃ الاباللہ و لا ملجا من اللہ الا الیہ پھر کچھ دیر چلنے کے بعد فرمایا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر لوگوں کا کیا حق ہے؟ اور لوگوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ اسی کی عبادت کریں کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ ٹھہرائیں اور جب وہ یہ کرلیں تو اللہ پر ان کا حق یہ ہے کہ انہیں عذاب نہ دے۔ میں نے عرض کیا کہ کیا میں لوگوں کو اس سے مطلع نہ کردوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انہیں عمل کرنے دو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10918]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر بن الحر .
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر بن الحر .
← پچھلی حدیث (10917) باب پر واپس اگلی حدیث (10919) →