مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ ، الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ , حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ , عَنِ الْمَقْبُرِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ فِي صَلاةٍ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ لَا يَحْبِسُهُ إِلَّا انْتِظَارُ الصَّلَاةِ , وَالْمَلَائِكَةُ مَعَهُ تَقُولُ: اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ , اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ , مَا لَمْ يُحْدِثْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انسان جب تک نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے اسے نماز ہی میں شمار کیا جاتا ہے اور فرشتے اس کے لئے اس وقت تک دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں جب تک وہ اپنی جائے نماز پر بیٹھا رہتا ہے اور کہتے رہتے ہیں کہ اے اللہ اس کی بخشش فرما اے اللہ اس پر رحم فرما جب تک وہ بےوضونہ ہوجائے راوی نے بےوضو ہونے کا مطلب پوچھا تو فرمایا آہستہ سے یا زور سے ہوا خارج ہوجائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10901]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي ، خ: 445، م: 649
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي ، خ: 445، م: 649