وَكِيعٌ ، شُعْبَةَ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلِمَةَ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلِمَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: اشْتَكَيْتُ، فَأَتَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ أَجَلِي قَدْ حَضَرَ فَأَرِحْنِي، وَإِنْ كَانَ مُتَأَخِّرًا فَاشْفِنِي أَوْ عَافِنِي، وَإِنْ كَانَ بَلَاءً فَصَبِّرْنِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَيْفَ قُلْتَ؟"، قَالَ: فَأَعَدْتُ عَلَيْهِ، قَالَ: فَمَسَحَ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَ:" اللَّهُمَّ اشْفِهِ، أَوْ عَافِهِ"، قَالَ: فَمَا اشْتَكَيْتُ وَجَعِي ذَاكَ بَعْدُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا میرے پاس سے گزر ہوا، میں اس وقت بیمار تھا اور یہ دعا کر رہا تھا کہ اے اللہ! اگر میری موت کا وقت قریب آگیا ہے تو مجھے اس بیماری سے راحت عطاء فرما اور مجھے اپنے پاس بلا لے، اگر اس میں دیر ہو تو شفاء عطا فرما دے، اور اگر یہ کوئی آزمائش ہو تو مجھے صبر عطاء فرما۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم کیا کہہ رہے ہو؟“ میں نے اپنی بات دہرا دی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ پر ہاتھ پھیر کر دعا فرمائی: «اَللّٰهُمَّ اشْفِهِ أَوْ عَافِهِ» ”اے اللہ! اسے عافیت اور شفاء عطاء فرما۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد مجھے وہ تکلیف کبھی نہیں ہوئی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1057]
الحكم: إسناده حسن