سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سَلْعٍ ، عَبْدِ خَيْرٍ ، عَلِيٌّ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سَلْعٍ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: قَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَذَكَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَعَمِلَ بِعَمَلِهِ، وَسَارَ بِسِيرَتِهِ، حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى ذَلِكَ، ثُمَّ اسْتُخْلِفَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى ذَلِكَ فَعَمِلَ بِعَمَلِهِمَا، وَسَارَ بِسِيرَتِهِمَا، حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ منبر پر کھڑے ہوئے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا انتقال ہوا تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر کر دیا گیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے طریقے اور ان کی سیرت پر چلتے ہوئے کام کرتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بھی اپنے پاس بلا لیا، پھر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے اور وہ ان دونوں حضرات کے طریقے اور سیرت پر چلتے ہوئے کام کرتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بھی اپنے پاس بلا لیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1055]
الحكم: إسناده حسن