بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 10318
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 10318
حدیث نمبر: 10318 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
إِسْمَاعِيلُ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، الزُّهْرِيِّ ، ابْنِ أُكَيْمَةَ الْجُنْدُعِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قََالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ أُكَيْمَةَ الْجُنْدُعِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً، فَجَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: " هَلْ قَرَأَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مَعِي آنِفًا؟"، قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ أَنَا، قَالَ:" إِنِّي أَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہمیں کوئی نماز پڑھائی اور اس میں جہراً قرأت فرمائی نمار سے فارغ ہونے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تم میں سے کسی نے میرے ساتھ قرأت کی ہے؟ ایک آدمی نے کہا جی یارسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تب ہی تو میں کہوں کہ میرے ساتھ قرآن میں جھگڑا کیوں کیا جا رہا تھا؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10318]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
← پچھلی حدیث (10317) باب پر واپس اگلی حدیث (10319) →