عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، زَائِدَةَ بْنِ قُدَامَةَ ، أَبِي حَصِينٍ الْأَسَدِيِّ ، وَابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، زَائِدَةُ ، أَبُو حَصِينٍ الْأَسَدِيُّ ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ زَائِدَةَ بْنِ قُدَامَةَ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ الْأَسَدِيِّ . ح وَابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، أَنْبَأَنَا أَبُو حَصِينٍ الْأَسَدِيُّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، وَكَانَتْ تَحْتِي ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرْتُ رَجُلًا فَسَأَلَهُ، فَقَالَ:" تَوَضَّأْ وَاغْسِلْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے بکثرت مذی آتی تھی، چونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صاحبزادی میرے نکاح میں تھیں اس لئے مجھے خود یہ مسئلہ پوچھتے ہوئے شرم آتی تھی، میں نے ایک آدمی سے کہا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھیں، چنانچہ انہوں نے یہ مسئلہ پوچھا، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا شخص اپنی شرمگاہ کو دھو کر وضو کر لیا کرے۔“ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1026]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح. خ: 269
الحكم: إسناده صحيح. خ: 269