وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، زِيَادِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْمَخْزُومِيِّ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْمَخْزُومِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: " جَاءَ مُشْرِكُو قُرَيْشٍ يُخَاصِمُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقَدَرِ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ، إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ سورة القمر آية 48 - 49" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مشرکین قریش نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس مسئلہ تقدیر میں جھگڑتے ہوئے آئے اس مناسبت سے یہ آیت نازل ہوئی جس دن آگ میں ان کے چہروں کو جھلسایا جائے گا تو ان سے کہا جائے گا کہ عذاب جہنم کا مزہ چکھو ہم نے ہر چیز کو ایک مقررہ اندازے سے پیدا کیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10164]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، م: 2656
الحكم: إسناده حسن، م: 2656