إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَأَبُو خَيْثَمَةَ ، وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، عَبْدِ خَيْرٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَأَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: كُنْتُ أَرَى أَنَّ بَاطِنَ الْقَدَمَيْنِ أَحَقُّ بِالْمَسْحِ مِنْ ظَاهِرِهِمَا، حَتَّى رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَمْسَحُ ظَاهِرَهُمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری رائے یہ تھی کہ مسح علی الخفین کے لئے موزوں کا وہ حصہ زیادہ موزوں ہے جو زمین کے ساتھ لگتا ہے بہ نسبت اس حصے کے جو پاؤں کے اوپر رہتا ہے، حتی کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جب اوپر کے حصے پر مسح کرتے ہوئے دیکھ لیا تو میں نے اپنی رائے کو ترک کر دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1013]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، والأعمش كان مضطرباً فى حديث أبى إسحاق
الحكم: حديث صحيح، والأعمش كان مضطرباً فى حديث أبى إسحاق