بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 1005
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 1005
حدیث نمبر: 1005 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
وَكِيعٌ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا صَلَّى الظُّهْرَ، دَعَا بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ فِي الرَّحَبَةِ، فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمّ قَالَ: إِنَّ رِجَالًا يَكْرَهُونَ هَذَا، وَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ كَالَّذِي رَأَيْتُمُونِي فَعَلْتُ، ثُمَّ تَمَسَّحَ بِفَضْلِهِ، وَقَالَ:" هَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نزال بن سبرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نماز ظہر کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک کوزے میں پانی لایا گیا، وہ مسجد کے صحن میں تھے، انہوں نے کھڑے کھڑے وہ پانی پی لیا اور فرمایا کہ کچھ لوگ اسے ناپسند سمجھتے ہیں حالانکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے جیسے تم نے مجھے کرتے ہوئے دیکھا ہے، پھر انہوں نے باقی پانی سے مسح کر لیا اور فرمایا: جو آدمی بےوضو نہ ہو بلکہ پہلے سے اس کا وضو موجود ہو، یہ اس شخص کا وضو ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1005]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5616
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5616
← پچھلی حدیث (1004) باب پر واپس اگلی حدیث (1006) →