إِسْحَاقُ ، مَالِكٌ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ أَبِيهِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، قََالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، " إِنْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلًا أُمْهِلُهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ؟ قَالَ: نَعَمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی اجنبی آدمی کو نامناسب حالت میں دیکھوں تو کیا اسے چھوڑ کر پہلے چار گواہ تلاش کرکے لاؤں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! (بعد میں یہ حکم لعان کے ساتھ تبدیل ہو گیا جس کی تفصیل سورت نور کے پہلے رکوع میں کی گئی ہے) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10007]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1498
الحكم: إسناده صحيح، م: 1498