بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: فضائل و مناقب باب: جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 3851 جامع ترمذی
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانُ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: " جَاءَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بِرَاكِبِ بَغْلٍ وَلَا بِرْذَوْنٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس آئے ۱؎، آپ نہ کسی خچر پر سوار تھے نہ ترکی گھوڑے پر۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3851]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/المرضی 15 (5664)، سنن ابی داود/ الجنائز 6 (3096)، وانظر ماتقدم برقم 2097) (تحفة الأشراف: 3021) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: صحیح بخاری اور دیگر کتب سنن میں ہے کہ آپ میری عیادت کو آئے … بہرحال اس میں جابر رضی الله عنہ سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے غایت درجہ محبت کرنے کی دلیل ہے، کہ سواری نہ ہونے پر پیدل چل کر ان کی عیادت کو گئے، رضی الله عنہ۔
قال الشيخ الألباني
صحيح مختصر الشمائل (291)
الحكم: صحيح مختصر الشمائل (291)
حدیث نمبر: 3852 جامع ترمذی
ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: " اسْتَغْفَرَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْبَعِيرِ خَمْسًا وَعِشْرِينَ مَرَّةً ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: لَيْلَةَ الْبَعِيرِ مَا رُوِيَ عَنْ جَابِرٍ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ , فَبَاعَ بَعِيرَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَاشْتَرَطَ ظَهْرَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ، يَقُولُ جَابِرٌ: لَيْلَةَ بِعْتُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَعِيرَ اسْتَغْفَرَ لِي خَمْسًا وَعِشْرِينَ مَرَّةً، وَكَانَ جَابِرٌ قَدْ قُتِلَ أَبُوهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَكَ بَنَاتٍ، فَكَانَ جَابِرٌ يَعُولُهُنَّ وَيُنْفِقُ عَلَيْهِنَّ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبَرُّ جَابِرًا , وَيَرْحَمُهُ لِسَبَبِ ذَلِكَ. هَكَذَا رُوِيَ فِي حَدِيثٍ عَنْ جَابِرٍ نَحْوَ هَذَا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے «ليلة البعير» (اونٹ کی رات) میں میرے لیے پچیس بار دعائے مغفرت کی۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے،
۲- ان کے قول «ليلة البعير» اونٹ کی رات سے وہ رات مراد ہے جو جابر سے کئی سندوں سے مروی ہے کہ وہ ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے، انہوں نے اپنا اونٹ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھ بیچ دیا اور مدینہ تک اس پر سوار ہو کر جانے کی شرط رکھ لی، جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں: جس رات میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھ اونٹ بیچا آپ نے پچیس بار میرے لیے دعائے مغفرت فرمائی۔ اور جابر کے والد عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی الله عنہما احد کے دن شہید کر دیئے گئے تھے اور انہوں نے کچھ لڑکیاں چھوڑی تھیں، جابر ان کی پرورش کرتے تھے اور ان پر خرچ دیتے تھے، اس کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے ساتھ حسن سلوک فرماتے تھے اور ان پر رحم کرتے تھے،
۳- اسی طرح ایک اور حدیث میں جابر سے ایسے ہی مروی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3852]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي) (تحفة الأشراف: 2691) (ضعیف) (ابوالزبیر مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف، المشكاة (6238)
قال الشيخ زبير على زئي
(3852) إسناده ضعيف
أبو الزبير عنعن (تقدم:927) و أخر جه مسلم (715 بعد ح 1599) من حديث أبى الزبير بغير هذا اللفظ وهو المحفوظ
الحكم: ضعيف، المشكاة (6238)