مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانُ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: " جَاءَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بِرَاكِبِ بَغْلٍ وَلَا بِرْذَوْنٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس آئے
۱؎، آپ نہ کسی خچر پر سوار تھے نہ ترکی گھوڑے پر۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3851] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/المرضی 15 (5664)، سنن ابی داود/ الجنائز 6 (3096)، وانظر ماتقدم برقم 2097) (تحفة الأشراف: 3021) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: صحیح بخاری اور دیگر کتب سنن میں ہے کہ ”آپ میری عیادت کو آئے …“ بہرحال اس میں جابر رضی الله عنہ سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے غایت درجہ محبت کرنے کی دلیل ہے، کہ سواری نہ ہونے پر پیدل چل کر ان کی عیادت کو گئے، رضی الله عنہ۔
قال الشيخ الألباني
صحيح مختصر الشمائل (291)
الحكم: صحيح مختصر الشمائل (291)