أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، أَبِي ، مَنْصُورَ بْنَ زَاذَانَ ، مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ، قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَال: سَمِعْتُ مَنْصُورَ بْنَ زَاذَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، أَنَّ أَبَاهُ دَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْدُمُهُ , قَالَ: فَمَرَّ بِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ صَلَّيْتُ فَضَرَبَنِي بِرِجْلِهِ وَقَالَ: " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ؟ "، قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
قیس بن سعد بن عبادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان کے باپ (سعد بن عبادہ) نے انہیں نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت کرنے کے لیے آپ کے حوالے کر دیا، وہ کہتے ہیں: میں نماز پڑھ کر بیٹھا ہی تھا کہ نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس سے گزرے، آپ نے اپنے پیر سے (مجھے اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے) ایک ٹھوکر لگائی پھر فرمایا:
”کیا میں تمہیں جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ نہ بتا دوں
“، میں نے کہا: کیوں نہیں ضرور بتائیے، آپ نے فرمایا:
”وہ
«لا حول ولا قوة إلا بالله» ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3581] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة 130 (355) (تحفة الأشراف: 11097)، و مسند احمد (3/422) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح، الصحيحة (1746)
قال الشيخ زبير على زئي
(3584) إسناده ضعيف / د 2632
الحكم: صحيح، الصحيحة (1746)