بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: نماز کے اخیر میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی دعاؤں اور معوذات کا بیان۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: مسنون ادعیہ و اذکار باب: نماز کے اخیر میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی دعاؤں اور معوذات کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 3567 جامع ترمذی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، وَعَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، سَعْدٌ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، وَعَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ , قَالَا: كَانَ سَعْدٌ يُعَلِّمُ بَنِيهِ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ كَمَا يُعَلِّمُ الْمُكَتِّبُ الْغِلْمَانَ وَيَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ بِهِنَّ دُبُرَ الصَّلَاةِ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْقَبْرِ ". قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَبُو إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ مُضْطَرِبٌ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، وَيَقُولُ: عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عُمَرَ، وَيَقُولُ: عَنْ غَيْرِهِ وَيَضْطَرِبُ فِيهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ هَذَا الْوَجْهِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
مصعب بن سعد اور عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ سعد بن ابی وقاص اپنے بیٹوں کو یہ کلمے ایسے ہی سکھاتے تھے جیسا کہ چھوٹے بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھانے والا معلم سکھاتا ہے اور کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کلمات کے ذریعہ ہر نماز کے اخیر میں اللہ کی پناہ مانگتے تھے۔ (وہ کلمے یہ تھے): «اللهم إني أعوذ بك من الجبن وأعوذ بك من البخل وأعوذ بك من أرذل العمر وأعوذ بك من فتنة الدنيا وعذاب القبر» اے اللہ! میں تیری پناہ لیتا ہوں بزدلی سے، اے اللہ! میں تیری پناہ لیتا ہوں کنجوسی سے، اے اللہ! میں تیری پناہ لیتا ہوں ذلیل ترین عمر سے (یعنی اس بڑھاپے سے جس میں عقل و ہوس کچھ نہ رہ جائے) اور پناہ مانگتا ہوں دنیا کے فتنہ اور قبر کے عذاب سے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح ہے،
۲- عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی کہتے ہیں: ابواسحاق ہمدانی اس حدیث میں اضطرب کا شکار تھے، کبھی کہتے تھے: روایت ہے عمرو بن میمون سے اور وہ روایت کرتے ہیں عمر سے، اور کبھی کسی اور سے کہتے اور اس روایت میں اضطراب کرتے تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3567]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الجھاد 125 (2822)، والدعوات 37 (6365)، و41 (6370)، و44 (6374)، و56 (6390)، سنن النسائی/الاستعاذة 5 (5447)، و6 (5449) (تحفة الأشراف: 2910، و2932)، و مسند احمد (1/183، 186) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3568 جامع ترمذی
أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ ، أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، خُزَيْمَةَ ، عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، أَبِيهَا
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ خُزَيْمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهَا، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ وَبَيْنَ يَدَيْهَا نَوًى، أَوْ قَالَ حَصًى تُسَبِّحُ بِهِ، فَقَالَ: " أَلَا أُخْبِرُكِ بِمَا هُوَ أَيْسَرُ عَلَيْكِ مِنْ هَذَا أَوْ أَفْضَلُ؟ سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي السَّمَاءِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي الْأَرْضِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا بَيْنَ ذَلِكَ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا هُوَ خَالِقٌ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ مِثْلَ ذَلِكَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِثْلَ ذَلِكَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ مِثْلَ ذَلِكَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ حَدِيثِ سَعْدٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک عورت کے پاس گئے، اس کے آگے کھجور کی گٹھلیاں تھیں یا کنکریاں، ان کے ذریعہ وہ تسبیح پڑھا کرتی تھی، آپ نے اس سے فرمایا: کیا میں تمہیں اس سے آسان طریقہ نہ بتا دوں؟ یا اس سے افضل و بہتر طریقہ نہ بتا دوں؟ (کہ ثواب میں بھی زیادہ رہے اور لمبی چوڑی گنتی کرنے سے بھی بچا رہے) وہ یہ ہے: «سبحان الله عدد ما خلق في السماء، وسبحان الله عدد ما خلق في الأرض، وسبحان الله عدد ما بين ذلك، وسبحان الله عدد ما هو خالق، والله أكبر مثل ذلك، والحمد لله مثل ذلك، ولا حول ولا قوة إلا بالله مثل ذلك» پاکی ہے اللہ کی اتنی جتنی اس نے آسمان میں چیزیں پیدا کی ہیں، اور پاکی ہے اللہ کی اتنی جتنی اس نے زمین میں چیزیں پیدا کی ہیں، اور پاکی ہے اس کی اتنی جتنی کہ ان دونوں کے درمیان چیزیں ہیں، اور پاکی ہے اس کی اتنی جتنی کہ وہ (آئندہ) پیدا کرنے والا ہے، اور ایسے ہی اللہ کی بڑائی ہے اور ایسے ہی اللہ کے لیے حمد ہے اور ایسے ہی لا حول ولا قوۃ ہے، (یعنی اللہ کی مخلوق کی تعداد کے برابر)۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث سعد کی روایت سے حسن غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3568]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/ الصلاة 359 (1500) (تحفة الأشراف: 3954) (منکر) (سند میں خزیمہ مجہول راوی ہے)»
قال الشيخ الألباني
منكر الرد على التعقيب الحثيث ص (23 - 35) ، المشكاة (2311) ، الضعيفة (83) ، الكلم الطيب (13 / 4) // ضعيف الجامع الصغير (2155) //
الحكم: منكر الرد على التعقيب الحثيث ص (23 - 35) ، المشكاة (2311) ، الضعيفة (83) ، الكلم الطيب (13 / 4) // ضعيف الجامع الصغير (2155) //
حدیث نمبر: 3569 جامع ترمذی
سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَزَيْدُ بْنُ حُبَابٍ ، مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَبِي حَكِيمٍ خَطْمِيٌ ، الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَزَيْدُ بْنُ حُبَابٍ , عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي حَكِيمٍ خَطْمِيٌ مَوْلَى الزُّبَيْرِ , عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ صَبَاحٍ يُصْبِحُ الْعَبْدُ فِيهِ إِلَّا وَمُنَادٍ يُنَادِي: سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا غَرِيبٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
زبیر بن عوام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کوئی صبح ایسی نہیں ہے کہ اللہ کے بندے صبح کرتے ہوں اور اس صبح میں کوئی پکار کر کہنے والا یہ نہ کہتا ہو کہ «سبحان الملك القدوس» کی تسبیح پڑھا کرو۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3569]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 3647) (ضعیف) (سند میں ”موسیٰ بن عبیدہ“ ضعیف، اور ان کے استاذ ”محمد بن ثابت“ مجہول ہیں)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف، الضعيفة (4496) // ضعيف الجامع الصغير (5188) //
قال الشيخ زبير على زئي
(3569) إسناده ضعيف
موسي بن عبيدة: ضعيف كما تقدم (1122) وشيخه محمد بن ثابت : مجهول (تق:5772)
الحكم: ضعيف، الضعيفة (4496) // ضعيف الجامع الصغير (5188) //