أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ ، بِلَالِ بْنِ يَحْيَى الْعَبْسِيِّ ، شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ ، شَكَلِ بْنِ حُمَيْدٍ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، قَالَ: حَدَثَنِي سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ، عَنْ بِلَالِ بْنِ يَحْيَى الْعَبْسِيِّ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ، عَنْ أَبِيهِ شَكَلِ بْنِ حُمَيْدٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي تَعَوُّذًا أَتَعَوَّذُ بِهِ، قَالَ: فَأَخَذَ بِكَتِفِي، فَقَالَ: " قُلِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي، وَمِنْ شَرِّ بَصَرِي، وَمِنْ شَرِّ لِسَانِي، وَمِنْ شَرِّ قَلْبِي، وَمِنْ شَرِّ مَنِيِّي يَعْنِي فَرْجَهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ سَعْدِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ بِلَالِ بْنِ يَحْيَى.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
شکل بن حمید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا تعویذ (پناہ لینے کی دعا) سکھا دیجئیے جسے پڑھ کر میں اللہ کی پناہ حاصل کر لیا کروں، تو آپ نے میرا کندھا پکڑا اور کہا: کہو (پڑھو):
«اللهم إني أعوذ بك من شر سمعي ومن شر بصري ومن شر لساني ومن شر قلبي ومن شر منيي يعني فرجه» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اپنے کان کے شر سے، اپنی آنکھ کے شر سے، اپنی زبان کے شر سے، اپنے دل کے شر سے، اور اپنی شرمگاہ کے شر سے
“ (منی سے مراد شرمگاہ ہے)۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن غریب ہے، اور ہم اس حدیث کو صرف اسی سند یعنی
«سعد بن أوس عن بلال بن يحيى» کے طریق سے جانتے ہیں۔
[سنن ترمذي/كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3492] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/ الصلاة 367 (5151)، سنن النسائی/الاستعاذة 4 (5446)، 10 (5457)، و11 (5458)، و28 (5486) (تحفة الأشراف: 4847)، و مسند احمد (3/429) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح، المشكاة (2472) ، صحيح أبي داود (1387)
الحكم: صحيح، المشكاة (2472) ، صحيح أبي داود (1387)