بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: سورۃ الاحزاب سے بعض آیات کی تفسیر۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: تفسیر قرآن کریم باب: سورۃ الاحزاب سے بعض آیات کی تفسیر۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 9
حدیث نمبر: 3199 جامع ترمذی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، صَاعِدٌ الْحَرَّانِيُّ ، زُهَيْرٌ ، قَابُوسُ بْنُ أَبِي ظَبْيَانَ ، أَبَاهُ ، لِابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا صَاعِدٌ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، أَخْبَرَنَا قَابُوسُ بْنُ أَبِي ظَبْيَانَ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، قَالَ: قُلْنَا لِابْنِ عَبَّاسٍ، أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: مَا جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ سورة الأحزاب آية 4 مَا عَنَى بِذَلِكَ؟ قَالَ: قَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يُصَلِّي، فَخَطَرَ خَطْرَةً، فَقَالَ الْمُنَافِقُونَ الَّذِينَ يُصَلُّونَ مَعَهُ: أَلَا تَرَى أَنَّ لَهُ قَلْبَيْنِ: قَلْبًا مَعَكُمْ، وَقَلْبًا مَعَهُمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: مَا جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ سورة الأحزاب آية 4 "،
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوظبیان کہتے ہیں کہ ہم نے ابن عباس رضی الله عنہما سے کہا: ذرا بتائیں اللہ تعالیٰ کے اس قول «ما جعل الله لرجل من قلبين في جوفه» اللہ تعالیٰ نے کسی کے سینے میں دو دل نہیں بنائے ہیں (الاحزاب: ۴)، کا کیا معنی و مطلب ہے؟ انہوں نے جواب دیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک دن نماز پڑھ رہے تھے کہ آپ سے کچھ سہو ہو گیا، آپ کے ساتھ نماز پڑھنے والے منافقین نے کہا: کیا تم دیکھتے نہیں ان کے دو دل ہیں ایک تم لوگوں کے ساتھ اور ایک اوروں کے ساتھ ہے۔ اسی موقع پر اللہ تعالیٰ نے آیت «ما جعل الله لرجل من قلبين في جوفه» نازل فرمائی۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3199]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 5406) (ضعیف) (سند میں قابوس لین الحدیث راوی ہیں)»
قال الشيخ الألباني
(الحديث الذي في سنده: حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، أخبرنا صاعد الحراني أخبرنا زهير) ضعيف الإسناد، (الحديث الذي في سنده: حدثنا عبد بن حميد حدثني أحمد بن يونس أخبرنا زهير) ضعيف أيضا
قال الشيخ زبير على زئي
(3199) إسناده ضعيف
قابوس: ضعيف (تقدم : 1053)
الحكم: (الحديث الذي في سنده: حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، أخبرنا صاعد الحراني أخبرنا زهير) ضعيف الإسناد، (الحديث الذي في سنده: حدثنا عبد بن حميد حدثني أحمد بن يونس أخبرنا زهير) ضعيف أيضا
حدیث نمبر: 3200 جامع ترمذی
أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ عَمِّي أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ: سُمِّيتُ بِهِ لَمْ يَشْهَدْ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبُرَ عَلَيَّ، فَقَالَ: أَوَّلُ مَشْهَدٍ شَهِدَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غِبْتُ عَنْهُ، أَمَا وَاللَّهِ لَئِنْ أَرَانِي اللَّهُ مَشْهَدًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا بَعْدُ لَيَرَيَنَّ اللَّهُ مَا أَصْنَعُ، قَالَ: فَهَابَ أَنْ يَقُولَ غَيْرَهَا، فَشَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ مِنَ الْعَامِ الْقَابِلِ، فَاسْتَقْبَلَهُ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَمْرٍو، أَيْنَ؟ قَالَ: وَاهًا لِرِيحِ الْجَنَّةِ أَجِدُهَا دُونَ أُحُدٍ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، فَوُجِدَ فِي جَسَدِهِ بِضْعٌ وَثَمَانُونَ مِنْ بَيْنِ ضَرْبَةٍ وَطَعْنَةٍ وَرَمْيَةٍ، فَقَالَتْ عَمَّتِي الرُّبَيِّعُ بِنْتُ النَّضْرِ: فَمَا عَرَفْتُ أَخِي إِلَّا بِبَنَانِهِ، وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ: رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلا سورة الأحزاب آية 23 ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میرے چچا انس بن نضر رضی الله عنہ جن کے نام پر میرا نام رکھا گیا تھا جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ شریک نہیں ہوئے تھے، یہ بات انہیں بڑی شاق اور گراں گزر رہی تھی، کہتے تھے: جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بنفس نفیس حاضر و موجود تھے میں اس سے غیر حاضر رہا، (اس کا مجھے بےحد افسوس ہے) مگر سنو! قسم اللہ کی! اب اگر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کسی غزوہ میں شریک ہونے کا موقع ملا تو یقیناً اللہ دیکھے گا کہ میں کیا کچھ کرتا ہوں، راوی کہتے ہیں: وہ اس کے سوا اور کچھ کہنے سے ڈرتے (اور بچتے) رہے، پھر اگلے سال وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ جنگ احد میں شریک ہوئے، سعد بن معاذ رضی الله عنہ کا ان سے سامنا ہوا تو انہوں نے کہا: ابوعمرو! کہاں کا ارادہ ہے انہوں نے کہا: اے واہ! میں تو احد پہاڑ کے پرے جنت کی خوشبو پا رہا ہوں پھر وہ لڑے اور اس شان سے لڑے کہ شہید کر دیئے گئے، ان کے جسم میں اسی (۸۰) سے کچھ زائد چوٹ تیر و نیزہ کے زخم پائے گئے۔ میری پھوپھی ربیع بنت نضر رضی الله عنہا نے کہا: میں اپنے بھائی کی نعش صرف ان کی انگلیوں کے پوروں سے پہچان پائی، اسی موقع پر آیت «رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه فمنهم من قضى نحبه ومنهم من ينتظر وما بدلوا تبديلا» ایمان والوں میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ اللہ کے ساتھ جو انہوں نے وعدے کیے تھے ان میں وہ پورے اترے، ان میں سے کچھ تو انتقال کر گئے اور کچھ لوگ مرنے کے انتظار میں ہیں۔ انہوں نے اس میں یعنی (اللہ سے کیے ہوئے اپنے معاہدہ میں کسی قسم) کی تبدیلی نہیں کی (الاحزاب: ۲۳)، نازل ہوئی۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3200]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الإمارة 41 (1901) (تحفة الأشراف: 406) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3201 جامع ترمذی
عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَمَّهُ غَابَ عَنْ قِتَالِ بَدْرٍ، فَقَالَ: غِبْتُ عَنْ أَوَّلِ قِتَالٍ قَاتَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُشْرِكِينَ، لَئِنْ اللَّهُ أَشْهَدَنِي قِتَالًا لَلْمُشْرِكِينَ لَيَرَيَنَّ اللَّهُ كَيْفَ أَصْنَعُ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ انْكَشَفَ الْمُسْلِمُونَ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا جَاءَ بِهِ هَؤُلَاءِ، يَعْنِي الْمُشْرِكِينَ وَأَعْتَذِرُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ هَؤُلَاءِ يَعْنِي أَصْحَابَهُ، ثُمَّ تَقَدَّمَ فَلَقِيَهُ سَعْدٌ، فَقَالَ: يَا أَخِي مَا فَعَلْتَ، أَنَا مَعَكَ فَلَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أَصْنَعَ مَا صَنَعَ، فَوُجِدَ فِيهِ بِضْعٌ وَثَمَانُونَ مِنْ ضَرْبَةٍ بِسَيْفٍ وَطَعْنَةٍ بِرُمْحٍ وَرَمْيَةٍ بِسَهْمٍ، فَكُنَّا نَقُولُ فِيهِ وَفِي أَصْحَابِهِ نَزَلَتْ: فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ سورة الأحزاب آية 23 قَالَ يَزِيدُ يَعْنِي هَذِهِ الْآيَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَاسْمُ عَمِّهِ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان کے چچا (انس بن نضر) بدر کی لڑائی میں غیر حاضر تھے، انہوں نے (افسوس کرتے ہوئے) کہا: اس پہلی لڑائی میں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مشرکین سے لڑائی میں غیر موجود رہا، اب اگر اللہ نے مشرکین سے مجھے کسی جنگ میں لڑنے کا موقع دیا تو اللہ ضرور دیکھے گا کہ میں (بے جگری و بہادری سے کس طرح لڑتا اور) کیا کرتا ہوں۔ پھر جب جنگ احد کی لڑائی کا موقع آیا، اور مسلمان (میدان سے) چھٹ گئے تو انہوں نے کہا: اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس شر سے جسے یہ لوگ یعنی مشرکین لے کر آئے ہیں اور ان سے یعنی آپ کے صحابہ سے جو غلطی سرزد ہوئی ہے، اس کے لیے تجھ سے معذرت خواہ ہوں، پھر وہ آگے بڑھے، ان سے سعد بن معاذ رضی الله عنہ کی ملاقات ہوئی، سعد نے ان سے کہا: میرے بھائی! آپ جو بھی کریں میں آپ کے ساتھ ساتھ ہوں، (سعد کہتے ہیں) لیکن انہوں نے جو کچھ کیا وہ میں نہ کر سکا، ان کی لاش پر تلوار کی مار کے، نیزے گھوپنے کے اور تیر لگنے کے اسّی (۸۰) سے کچھ زیادہ ہی زخم تھے، ہم کہتے تھے کہ ان کے اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں آیت «فمنهم من قضى نحبه ومنهم من ينتظر» اتری ہے۔ یزید (راوی) کہتے ہیں: اس سے مراد یہ (پوری) آیت ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- انس بن مالک کے چچا کا نام انس بن نضر رضی الله عنہما ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3201]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ماقبلہ (تحفة الأشراف: 808) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3202 جامع ترمذی
عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ ، عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، إِسْحَاق بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ ، مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، مُعَاوِيَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ: أَلَا أُبَشِّرُكَ، فَقُلْتُ: بَلَى، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " طَلْحَةُ مِمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَإِنَّمَا رُوِيَ هَذَا عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِيهِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ میں معاویہ رضی الله عنہ کے پاس گیا تو انہوں نے کہا: کیا میں تمہیں ایک خوشخبری نہ سنا دوں؟ میں نے کہا: ضرور، سنائیے، کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ طلحہ رضی الله عنہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے «ممن قضى نحبه» فرمایا ہے، یعنی جو اپنا کام پورا کر چکے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے معاویہ رضی الله عنہ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں،
۲- جبکہ یہ حدیث موسیٰ بن طلحہ صرف طلحہ کی حدیث سے روایت کی جاتی ہے، (جو آگے آ رہی ہے)۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3202]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابن ماجہ/المقدمة 11 (126) (تحفة الأشراف: 11445) (حسن)»
قال الشيخ الألباني
حسن، ابن ماجة (126)
قال الشيخ زبير على زئي
(3202) إسناده ضعيف /جه 127۔126، يأتي :3740
إسحاق بن يحيي بن طلحة ضعيف (تقدم:2654) والحديث الأتي (الأصل :3203) يغني عنه
الحكم: حسن، ابن ماجة (126)
حدیث نمبر: 3203 جامع ترمذی
أَبُو كُرَيْبٍ ، يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، مُوسَى ، وَعِيسَى ، طَلْحَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُوسَى، وَعِيسَى ابني طلحة، عَنْ أَبِيهِمَا طَلْحَةَ، أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا لِأَعْرَابِيٍّ جَاهِلٍ: سَلْهُ عَمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ مَنْ هُوَ؟ وَكَانُوا لَا يَجْتَرِئُونَ عَلَى مَسْأَلَتِهِ يُوَقِّرُونَهُ وَيَهَابُونَهُ، فَسَأَلَهُ الْأَعْرَابِيُّ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ إِنِّي اطَّلَعْتُ مِنْ بَابِ الْمَسْجِدِ وَعَلَيَّ ثِيَابٌ خُضْرٌ، فَلَمَّا رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَيْنَ السَّائِلُ عَمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ؟ " قَالَ الأَعْرَابِيُّ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَذَا مِمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ "، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ يُونُسَ بْنِ بُكَيْرٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
طلحہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ نے ایک جاہل دیہاتی سے کہا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے «ممن قضى نحبه» سے متعلق پوچھے کہ اس سے مراد کیا ہے؟ وہ لوگ خود آپ سے یہ سوال پوچھنے کی ہمت نہیں کر رہے تھے، وہ آپ کا ادب و احترام کرتے تھے اور آپ سے ڈرتے بھی تھے، اعرابی نے آپ سے پوچھا، مگر آپ نے اعراض کیا، اس نے پھر پوچھا، آپ نے پھر اس کی طرف توجہ نہ دی، اس نے پھر پوچھا: آپ نے پھر بےرخی برتی، پھر میں مسجد کے دروازے سے نمودار ہوا اور (اندر آیا) میں (نمایاں) سبز کپڑے پہنے ہوئے تھا، جب آپ نے مجھے دیکھا تو آپ نے فرمایا: «ممن قضى نحبه» سے متعلق پوچھنے والا شخص کہاں ہے؟ اعرابی، (گنوار دیہاتی) نے کہا: اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ شخص (طلحہ) انہی لوگوں میں سے ہے، جنہوں نے اپنے کام اور ذمہ داریاں پوری کر دی ہیں۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف یونس بن بکیر کی روایت ہی سے جانتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3203]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 5005) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح، الصحيحة (1 / 36)
الحكم: حسن صحيح، الصحيحة (1 / 36)
حدیث نمبر: 3204 جامع ترمذی
عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: لَمَّا أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَخْيِيرِ أَزْوَاجِهِ بَدَأَ بِي، فَقَالَ: " يَا عَائِشَةُ إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا فَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تَسْتَعْجِلِي حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ "، قَالَتْ: وَقَدْ عَلِمَ أَنَّ أَبَوَايَ لَمْ يَكُونَا لِيَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ، قَالَتْ: ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى، يَقُولُ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ حَتَّى بَلَغَ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا سورة الأحزاب آية 28 ـ 29، فَقُلْتُ: فِي أَيِّ هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ، فَإِنِّي أُرِيدُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ، وَفَعَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَا فَعَلْتُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا أَيْضًا عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی بیویوں کو اختیار دے دیں ۱؎ تو آپ نے اپنی اس کاروائی کی ابتداء مجھ سے کی: آپ نے کہا: عائشہ! میں تمہارے سامنے ایک معاملہ رکھتا ہوں، تم اپنے ماں باپ سے مشورہ لیے بغیر جواب دہی میں جلد بازی نہ کرنا، عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ آپ خوب سمجھتے تھے کہ میرے والدین مجھے آپ سے جدائی و علیحدگی اختیار کر لینے کا حکم نہیں دے سکتے تھے۔ پھر آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «يا أيها النبي قل لأزواجك إن كنتن تردن الحياة الدنيا وزينتها فتعالين» سے لے کر یہاں تک «للمحسنات منكن أجرا عظيما» ۲؎ میں نے کہا: کیا میں اس بارے میں ماں باپ سے مشورہ لوں؟ (نہیں مجھے کسی مشورہ کی ضرورت نہیں) میں اللہ اور اس کے رسول کو چاہتی ہوں اور آخرت کے گھر کو پسند کرتی ہوں، آپ کی دیگر بیویوں نے بھی ویسا ہی کچھ کہا جیسا میں نے کہا تھا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- یہ حدیث زہری سے بھی مروی ہے، زہری نے عروہ سے اور عروہ نے عائشہ سے روایت کی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3204]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/تفسیر سورة الأحزاب 4 (4785)، صحیح مسلم/الطلاق 4 (1475)، سنن النسائی/النکاح 2 (3203)، والطلاق 26 (3469)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 20 (2053) (تحفة الأشراف: 17767)، و مسند احمد (6/78، 103، 185، 248، 264)، وسنن الدارمی/الطلاق 5 (2274) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی وہ چاہیں تو آپ کے ساتھ رہیں اور تنگی کی زندگی گزاریں، اور اگر دنیا اور دنیا کی زینت چاہتی ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ساتھ چھوڑ دیں۔
۲؎: اے نبی! آپ اپنی بیویوں سے کہہ دیجئیے کہ تمہیں اگر دنیا اور دنیا کی زینت چاہیئے تو آؤ میں کچھ دے کر چھوڑ چھاڑ دوں، (طلاق کے ساتھ کچھ مال دے کر بھلے طریقے سے رخصت کر دوں) اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کو چاہتی ہو اور آخرت کا گھر تمہیں مطلوب ہے تو اللہ نے تم نیکو کاروں کے لیے بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے (الاحزاب: ۲۸-۲۹)۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3205 جامع ترمذی
قُتَيْبَةُ ، مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، رَبِيبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا سورة الأحزاب آية 33 فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، فَدَعَا فَاطِمَةَ، وَحَسَنًا، وَحُسَيْنًا فَجَلَّلَهُمْ بِكِسَاءٍ وَعَلِيٌّ خَلْفَ ظَهْرِهِ فَجَلَّلَهُ بِكِسَاءٍ، ثُمَّ قَالَ: " اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي، فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا "، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: وَأَنَا مَعَهُمْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَالَ: " أَنْتِ عَلَى مَكَانِكِ وَأَنْتِ عَلَى خَيْرٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ عَطَاءٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زیر پرورش عمر بن ابی سلمہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا» اللہ تعالیٰ یہی چاہتا ہے کہ اے نبی کی گھر والو! تم سے وہ (ہر قسم کی) گندگی کو دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے (الاحزاب: ۳۳)، ام سلمہ رضی الله عنہا کے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل ہوئی تو آپ نے فاطمہ و حسن حسین (رضی الله عنہم) کو بلایا اور انہیں ایک چادر کے نیچے ڈھانپ دیا، علی رضی الله عنہ آپ کی پیٹھ کے پیچھے تھے آپ نے انہیں بھی چادر کے نیچے کر لیا، پھر فرمایا: اے اللہ یہ ہیں میرے اہل بیت، میرے گھر والے، ان سے ناپاکی دور کر دے اور انہیں ہر طرح کی آلائشوں سے پوری طرح پاک و صاف کر دے، ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: اور میں بھی انہیں کے ساتھ ہوں، اے اللہ کے رسول؟ آپ نے فرمایا: تم اپنی جگہ ہی ٹھیک ہو، تمہیں خیر ہی کا مقام و درجہ حاصل ہے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث اس سند سے جسے عطاء عمر بن ابی سلمہ سے روایت کرتے ہیں غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3205]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف و أعادہ في المناقب 32 (برقم 3787) (تحفة الأشراف: 10687) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی اس آیت میں وارد «اہل البیت» سے مراد بتصریح نبوی علی، فاطمہ، حسن اور حسین ہیں، ازواج مطہرات کو اگرچہ دیگر فضیلتیں حاصل ہیں مگر وہ اس آیت کے اس لفظ کے مفہوم میں داخل نہیں ہیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، الروض النضير (976 و 1190)
الحكم: صحيح، الروض النضير (976 و 1190)
حدیث نمبر: 3206 جامع ترمذی
عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمُرُّ بِبَابِ فَاطِمَةَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ إِذَا خَرَجَ إِلَى صَلَاةِ الْفَجْرِ، يَقُولُ: الصَّلَاةَ يَا أَهْلَ الْبَيْتِ: إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا سورة الأحزاب آية 33 ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي الْحَمْرَاءِ، وَمَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، وَأُمِّ سَلَمَةَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فاطمہ رضی الله عنہا کے دروازے کے سامنے سے چھ مہینے تک گزرتے رہے، جب فجر کے لیے نکلتے تو آپ کا معمول تھا کہ آپ آواز دیتے «الصلاة يا أهل البيت» اے میرے گھر والو! نماز فجر کے لیے اٹھو «إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا» اللہ چاہتا ہے کہ تمہاری نجاست تم سے دور کر دے اور تمہیں پورے طور پر پاک کر دے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ہم اسے صرف حماد بن سلمہ کی روایت سے ہی جانتے ہیں،
۲- اس باب میں ابوالحمراء، معقل بن یسار اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3206]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 1099) (ضعیف) (سند میں ”علی بن زید بن جدعان“ ضعیف ہیں)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف المصدر نفسه //، الروض النضير (976 و 1190) //
قال الشيخ زبير على زئي
(3206) إسناده ضعيف
علي بن زيد: ضعيف (تقدم:589)
الحكم: ضعيف المصدر نفسه //، الروض النضير (976 و 1190) //
حدیث نمبر: 3207 جامع ترمذی
عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، دَاوُدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ ، دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، الشَّعْبِيِّ ، عَائِشَةَ ، الشَّعْبِيِّ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَضَّاحٍ الْكُوفِيُّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: لَوْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَاتِمًا شَيْئًا مِنَ الْوَحْيِ لَكَتَمَ هَذِهِ الْآيَةَ: " وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ يَعْنِي بِالْإِسْلَامِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ يَعْنِي بِالْعِتْقِ فَأَعْتَقْتَهُ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ تَخْشَاهُ إِلَى قَوْلِهِ وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ مَفْعُولا سورة الأحزاب آية 37، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا تَزَوَّجَهَا، قَالُوا: تَزَوَّجَ حَلِيلَةَ ابْنِهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ سورة الأحزاب آية 40، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبَنَّاهُ وَهُوَ صَغِيرٌ، فَلَبِثَ حَتَّى صَارَ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ: زَيْدُ بْنُ مُحَمَّدٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ: ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ سورة الأحزاب آية 5 فُلَانٌ مَوْلَى فُلَانٍ وَفُلَانٌ أَخُو فُلَانٍ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ سورة الأحزاب آية 5 يَعْنِي أَعْدَلُ عِنْدَ اللهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، قَدْ رُوِيَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " لَوْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَاتِمًا شَيْئًا مِنَ الْوَحْيِ لَكَتَمَ هَذِهِ الْآيَةَ: وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ سورة الأحزاب آية 37 " هَذَا الْحَرْفُ لَمْ يُرْوَ بِطُولِهِ، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَضَّاحٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وحی کی کوئی چیز چھپا لینے والے ہوتے تو یہ آیت «وإذ تقول للذي أنعم الله عليه» جب آپ اس شخص سے جس پر اللہ نے اسلام کے ذریعہ انعام کیے تھے اور آپ نے بھی (اسے آزاد کر کے) اس پر انعام و احسان کیے تھے کہہ رہے تھے کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس رہنے دو (طلاق نہ دو) اور اللہ سے ڈرو، اور تم اپنے دل میں وہ بات چھپا رہے تھے جسے اللہ ظاہر کرنا چاہتا تھا تم لوگوں کے (لعن طعن) سے ڈرتے تھے اور اللہ اس کا زیادہ سزاوار ہے کہ تم اس سے ڈرو، سے لے کر «وكان أمر الله مفعولا» تک چھپا لیتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب ان سے (زینب سے) شادی کر لی تو لوگوں نے کہا: آپ نے اپنے (لے پالک) بیٹے کی بیوی سے شادی کر لی، اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت «ما كان محمد أبا أحد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين» محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) تم لوگوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں بلکہ وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبین (آخری نبی) ہیں، نازل فرمائی، زید چھوٹے تھے تبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں منہ بولا بیٹا بنا لیا تھا، وہ برابر آپ کے پاس رہے یہاں تک کہ جوان ہو گئے، اور ان کو زید بن محمد کہا جانے لگا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله فإن لم تعلموا آباءهم فإخوانكم في الدين ومواليكم» انہیں ان کے (اصلی باپ کی طرف) منسوب کر کے پکارو (جن کے نطفے سے وہ پیدا ہوئے ہیں) یہ اللہ کے نزدیک زیادہ مبنی بر انصاف بات ہے، لیکن اگر تم ان کے باپوں کو نہ جانتے ہو (کہ وہ کون ہیں) تو وہ تمہارے دینی بھائی اور دوست ہیں، فلاں فلاں کا دوست ہے اور فلاں فلاں کا دینی بھائی ہے ۴؎، «هو أقسط عند الله» یہ اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف پر مبنی کا مفہوم یہ ہے کہ پورا انصاف ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث غریب ہے۔ اس سند سے مسروق نے عائشہ سے روایت کی ہے، وہ کہتی ہیں: اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وحی میں سے کچھ چھپانے والے ہوتے تو آپ یہ آیت «وإذ تقول للذي أنعم الله عليه وأنعمت عليه» چھپاتے، (اس روایت میں) یہ حدیث کی پوری روایت نہیں کی گئی ہے ۵؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3207]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 16169) (ضعیف الإسناد جداً)»
وضاحت
۴؎: اگر وہ آزاد ہوں تو ترجمہ ہو گا فلاں فلاں کے دوست، حلیف اور اگر آزاد کردہ غلام ہوں تو ترجمہ ہو گا فلاں فلاں کا آزاد کردہ غلام یہی بات «موالیکم» کے ترجمہ میں بھی ملحوظ رہے۔
۵؎: یعنی: اس حدیث کی دو سندوں میں شعبی کے بعد مسروق کا اضافہ ہے، اور یہی سندیں متصل ہیں (یہ آگے آ رہی ہیں) پہلی سند میں انقطاع ہے۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف الإسناد جدا
قال الشيخ زبير على زئي
(3207) إسناده ضعيف جدًا
داود بن الزبرقان: متروك وكذبه الأزدي (تق:1785) والحديث الاتي (الأصل :3208) يغني عنه
الحكم: ضعيف الإسناد جدا