عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ ، عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، إِسْحَاق بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ ، مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، مُعَاوِيَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ: أَلَا أُبَشِّرُكَ، فَقُلْتُ: بَلَى، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " طَلْحَةُ مِمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَإِنَّمَا رُوِيَ هَذَا عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِيهِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ میں معاویہ رضی الله عنہ کے پاس گیا تو انہوں نے کہا: کیا میں تمہیں ایک خوشخبری نہ سنا دوں؟ میں نے کہا: ضرور، سنائیے، کہا میں نے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ
”طلحہ رضی الله عنہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے
«ممن قضى نحبه» فرمایا ہے
“، یعنی جو اپنا کام پورا کر چکے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے معاویہ رضی الله عنہ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں،
۲- جبکہ یہ حدیث موسیٰ بن طلحہ صرف طلحہ کی حدیث سے روایت کی جاتی ہے، (جو آگے آ رہی ہے)۔
[سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3202] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابن ماجہ/المقدمة 11 (126) (تحفة الأشراف: 11445) (حسن)»
قال الشيخ الألباني
حسن، ابن ماجة (126)
قال الشيخ زبير على زئي
(3202) إسناده ضعيف /جه 127۔126، يأتي :3740
إسحاق بن يحيي بن طلحة ضعيف (تقدم:2654) والحديث الأتي (الأصل :3203) يغني عنه
الحكم: حسن، ابن ماجة (126)