مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ ، نُعَيْمُ بْنُ مَيْسَرَةَ النَّحْوِيُّ ، فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ ، عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ مَيْسَرَةَ النَّحْوِيُّ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ: " قَرَأَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلَقَكُمْ مِنْ ضَعْفٍ سورة الروم آية 54، فَقَالَ: مِنْ ضُعْفٍ ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے
«خَلَقَكُمْ مِنْ ضَعْفٍ» (ضاد کے فتحہ کے ساتھ) پڑھا تو آپ نے فرمایا:
«مِنْ ضَعْفٍ» نہیں
«مِنْ ضُعْفٍ» ۱؎ (ضاد کے ضمہ کے ساتھ) پڑھو
“۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،
۲- ہم اسے صرف فضیل بن مرزوق کی روایت سے جانتے ہیں۔
[سنن ترمذي/كتاب القراءات عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2936] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/ الحروف (3978) (تحفة الأشراف: 7334) (حسن)»
وضاحت
۱؎: یہی مشہور قراءت ہے، اور ضاد کے فتحہ کے ساتھ عاصم اور حمزہ کی قراءت ہے، یعنی ہے: ”اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے تمہیں کمزوری کی حالت میں پیدا کیا“۔ (الروم: ۵۴)
قال الشيخ الألباني
حسن، الروض النضير (530)
قال الشيخ زبير على زئي
(2936) إسناده ضعيف / د 3978
عطية العوفي ضعيف (تقدم: 477)
الحكم: حسن، الروض النضير (530)