نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَبِيهِ ، سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ، عَطِيَّةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: " لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ ظَهَرَتْ الرُّومُ عَلَى فَارِسَ، فَأَعْجَبَ ذَلِكَ الْمُؤْمِنِينَ، فَنَزَلَتْ الم {1} غُلِبَتِ الرُّومُ {2} إِلَى قَوْلِهِ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ سورة الروم آية 1 ـ 4، قَالَ: يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ بِظُهُورِ الرُّومِ عَلَى فَارِسَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَيُقْرَأُ غَلَبَتْ وَغُلِبَتْ، يَقُولُ: كَانَتْ غُلِبَتْ ثُمَّ غَلَبَتْ، هَكَذَا قَرَأَ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ غَلَبَتْ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جنگ بدر کے موقع پر رومی (اہل کتاب نصاریٰ) اہل فارس (آتش پرست مجوسیوں) پر غالب آ گئے۔ تو یہ چیز مسلمانوں کو بڑی پسند آئی اور اسی موقع پر (
«الم غلبت الروم» سے
«يفرح المؤمنون») تک کی آیات نازل ہوئیں
۱؎۔ چنانچہ مسلمان اہل روم کے اہل فارس پر غلبہ سے خوش ہوئے
۲؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے،
۲- «غَلَبَتْ» اور
«غُلِبَتْ» دونوں پڑھا جاتا ہے۔ کہتے ہیں: اہل روم پہلے مغلوب ہوئے پھر غالب آ گئے، ایسے ہی نصر بن علی نے
«غَلَبَتْ» پڑھا ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب القراءات عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2935] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 4208) (صحیح) (عطیہ عوفی ضعیف راوی ہیں، شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)»
وضاحت
۱؎: «الم» ”رومی مغلوب ہو گئے ہیں نزدیک کی زمین پر اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آ جائیں گے، چند سال میں ہی، اس سے پہلے اور اس کے بعد بھی اختیار اللہ تعالیٰ ہی کا ہے، اس روز مسلمان خوش ہوں گے“۔ (الروم: ۱-۴)
۲؎: اس لیے کہ مسلمان اہل کتاب (قرآن والے) تھے اور رومی بھی اہل کتاب (انجیل والے) تھے، اور اہل فارس کافر و مشرک تھے جیسے اہل مکہ کافر و مشرک تھے۔ ان کی خوشی ادنی موافقت کی بنا پر تھی۔ قال الشيخ الألباني
صحيح وسيأتي برقم (3420)
قال الشيخ زبير على زئي
(2935) إسناده ضعيف
عطية العوفى (تقدم: 477) سليمان الأعمش و سليمان التيمي مدلسان وعنعنا (تقدما: 169 ، 2035) والأحاديث الأتية :الأصل :3193 ۔ 3194 تغني عنه
الحكم: صحيح وسيأتي برقم (3420)