بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: آدمی کی موت اور آرزو کی مثال۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: مثل اور کہاوت کا تذکرہ باب: آدمی کی موت اور آرزو کی مثال۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 5
حدیث نمبر: 2870 جامع ترمذی
مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، خَلَّادُ بْنُ يَحْيَي ، بَشِيرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَي، حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ تَدْرُونَ مَا هَذِهِ وَمَا هَذِهِ؟ وَرَمَى بِحَصَاتَيْنِ "، قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " هَذَاكَ الْأَمَلُ وَهَذَاكَ الْأَجَلُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو کنکریاں پھینکتے ہوئے فرمایا: کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے اور یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کو بہتر معلوم ہے۔ آپ نے فرمایا: یہ امید (و آرزو) ہے اور یہ اجل (موت) ہے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأمثال عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2870]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 1950) (ضعیف) (سند میں بشیر بن مہاجر لین الحدیث راوی ہیں)»
وضاحت
۱؎: معلوم ہوا کہ انسان کی آرزوئیں بہت ہیں ان آرزؤں کی تکمیل میں وہ سرگرداں رہتا ہے، اس کی بہت ساری امیدوں کی تکمیل ابھی باقی ہے اور اچانک موت اسے اپنے آہنی شکنجے میں دبوچ لیتی ہے، گویا انسان یہ کہتا ہے کہ موت سے قبل اپنی ساری آرزوئیں پوری کر لے گا جب کہ ایسا ہونا ناممکن ہے۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف، التعليق الرغيب (4 / 133)
الحكم: ضعيف، التعليق الرغيب (4 / 133)
حدیث نمبر: 2871 جامع ترمذی
إِسْحَاق بْنُ مُوسَى ، مَعْنٌ ، مَالِكٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّمَا أَجَلُكُمْ فِيمَا خَلَا مِنَ الْأُمَمِ، كَمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى مَغَارِبِ الشَّمْسِ، وَإِنَّمَا مَثَلُكُمْ وَمَثَلُ الْيَهُودِ، وَالنَّصَارَى كَرَجُلٍ اسْتَعْمَلَ عُمَّالًا، فَقَالَ: مَنْ يَعْمَلُ لِي إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ؟ فَعَمِلَتْ الْيَهُودُ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ، فَقَالَ: مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ، فَعَمِلَتْ النَّصَارَى عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ، ثُمَّ أَنْتُمْ تَعْمَلُونَ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى مَغَارِبِ الشَّمْسِ عَلَى قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ، فَغَضِبَتْ الْيَهُودُ، وَالنَّصَارَى، وَقَالُوا: نَحْنُ أَكْثَرُ عَمَلًا وَأَقَلُّ عَطَاءً، قَالَ: هَلْ ظَلَمْتُكُمْ مِنْ حَقِّكُمْ شَيْئًا؟ قَالُوا: لَا، قَالَ: فَإِنَّهُ فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ أَشَاءُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری مدت گزری ہوئی امتوں کے مقابل میں عصر سے مغرب تک کی درمیانی مدت کی طرح ہے (یعنی بہت مختصر تھوڑی) تمہاری مثال اور یہود و نصاریٰ کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے کئی مزدور رکھے۔ اس نے کہا: میرے یہاں کون فی کس ایک قیراط پر دوپہر تک کام کرتا ہے؟ تو یہود نے ایک ایک قیراط پر کام کیا، پھر اس نے کہا: میرے یہاں کون مزدوری کرتا ہے دوپہر سے عصر تک فی کس ایک ایک قیراط پر؟ تو نصاریٰ نے ایک قیراط پر کام کیا۔ پھر تم (مسلمان) کام کرتے ہو عصر سے سورج ڈوبنے تک فی کس دو دو قیراط پر۔ (یہ دیکھ کر) یہود و نصاریٰ غصہ ہو گئے، انہوں نے کہا: ہمارا کام زیادہ ہے اور مزدوری تھوڑی ہے؟، اللہ نے فرمایا: کیا تمہارا حق کچھ کم کر کے میں نے تم پر ظلم کیا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ تو اس نے کہا: یہ میرا فضل و انعام ہے میں جسے چاہوں دوں۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأمثال عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2871]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الإجارة 9 (22669)، وأحادیث الأنبیاء 50 (3459)، وفضائل القرآن 17 (5021) (تحفة الأشراف: 7235)، و مسند احمد (2/6، 111) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح مختصر البخارى (312)
الحكم: صحيح مختصر البخارى (312)
حدیث نمبر: 2872 جامع ترمذی
الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا النَّاسُ كَإِبِلٍ مِائَةٍ لَا يَجِدُ الرَّجُلُ فِيهَا رَاحِلَةً "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: لوگ سو اونٹ کی طرح ہیں۔ آدمی ان میں سے ایک بھی سواری کے قابل نہیں پاتا ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأمثال عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2872]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الرقاق 35 (6498)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 60 (2547)، سنن ابن ماجہ/الفتن 16 (3990) (تحفة الأشراف: 6945)، و مسند احمد (2/7، 44، 70، 109، 121، 122، 123، 130) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی: اچھے لوگ بہت کم ملتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (3990)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (3990)
حدیث نمبر: 2873 جامع ترمذی
سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيِّ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَقَالَ: " لَا تَجِدُ فِيهَا رَاحِلَةً "، أَوْ قَالَ: " لَا تَجِدُ فِيهَا إِلَّا رَاحِلَةً ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سفیان بن عیینہ زہری سے اسی سند سے اسی طرح روایت کرتے ہیں اور انہوں نے کہا: تم ان میں ایک بھی سواری کے قابل نہ پاؤ گے، یا یہ کہا: تم ان میں سے صرف ایک سواری کے قابل پا سکو گے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأمثال عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2873]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ماقبلہ (تحفة الأشراف: 6835) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح انظر ما قبله (2872)
الحكم: صحيح انظر ما قبله (2872)
حدیث نمبر: 2874 جامع ترمذی
قُتَيْبَةُ ، الْمُغَيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا الْمُغَيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُ أُمَّتِي كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا فَجَعَلًتِ الذُّبَابُ وَالْفَرَاشُ يَقَعْنَ فِيهَا، وَأَنَا آخُذُ بِحُجَزِكُمْ وَأَنْتُمْ تَقَحَّمُونَ فِيهَا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میری اور میری امت کی مثال اس آدمی جیسی ہے جس نے آگ جلائی تو مکھیاں اور پتنگے اس میں پڑنے لگے (یہی حال تمہارا اور ہمارا ہے) میں تمہاری کمر پکڑ پکڑ کر تمہیں بچا رہا ہوں اور تم ہو کہ اس میں (جہنم کی آگ میں) بلا سوچے سمجھے گھسے چلے جا رہے ہو۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- دوسری سندوں سے بھی مروی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأمثال عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2874]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء 40 (3426)، صحیح مسلم/الفضائل 6 (2284) (تحفة الأشراف: 13879)، و مسند احمد (2/361، 392) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح الضعيفة تحت الحديث (3082)
الحكم: صحيح الضعيفة تحت الحديث (3082)