مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، خَلَّادُ بْنُ يَحْيَي ، بَشِيرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَي، حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ تَدْرُونَ مَا هَذِهِ وَمَا هَذِهِ؟ وَرَمَى بِحَصَاتَيْنِ "، قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " هَذَاكَ الْأَمَلُ وَهَذَاكَ الْأَجَلُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو کنکریاں پھینکتے ہوئے فرمایا:
”کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے اور یہ کیا ہے؟
“ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کو بہتر معلوم ہے۔ آپ نے فرمایا:
”یہ امید (و آرزو) ہے اور یہ اجل (موت) ہے
“ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب الأمثال عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2870] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 1950) (ضعیف) (سند میں بشیر بن مہاجر لین الحدیث راوی ہیں)»
وضاحت
۱؎: معلوم ہوا کہ انسان کی آرزوئیں بہت ہیں ان آرزؤں کی تکمیل میں وہ سرگرداں رہتا ہے، اس کی بہت ساری امیدوں کی تکمیل ابھی باقی ہے اور اچانک موت اسے اپنے آہنی شکنجے میں دبوچ لیتی ہے، گویا انسان یہ کہتا ہے کہ موت سے قبل اپنی ساری آرزوئیں پوری کر لے گا جب کہ ایسا ہونا ناممکن ہے۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف، التعليق الرغيب (4 / 133)
الحكم: ضعيف، التعليق الرغيب (4 / 133)