الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، قَال: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ خَلْقَهُ فِي ظُلْمَةٍ، فَأَلْقَى عَلَيْهِمْ مِنْ نُورِهِ، فَمَنْ أَصَابَهُ مِنْ ذَلِكَ النُّورِ اهْتَدَى، وَمَنْ أَخْطَأَهُ ضَلَّ، فَلِذَلِكَ أَقُولُ: جَفَّ الْقَلَمُ عَلَى عِلْمِ اللَّهِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
”اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو تاریکی میں پیدا کیا پھر ان پر اپنا نور ڈالا (یعنی اپنے نور کا پر تو) تو جس پر یہ نور پڑ گیا وہ ہدایت یاب ہو گیا اور جس پر نور نہ پڑا (تجاوز کر گیا) تو وہ گمراہ ہو گیا، اسی لیے میں کہتا ہوں کہ اللہ کے علم پر (تقدیر کا) قلم خشک ہو چکا ہے
“ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب الإيمان عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2642] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: لم یذکرہ المزي)، و مسند احمد (2/176، 197) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی ہدایت و گمراہی کی پیشگی تحریر اللہ کے علم کے مطابق ازل میں لکھی جا چکی ہے، اس میں کسی قسم کا ردوبدل نہیں ہو سکتا۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، المشكاة (101) ، الصحيحة (1076) ، الظلال (241 - 244)
الحكم: صحيح، المشكاة (101) ، الصحيحة (1076) ، الظلال (241 - 244)