مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، أَبُو دَاوُدَ ، شُعْبَةُ ، حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، وَالْأَعْمَشِ ، زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، وَالْأَعْمَشِ، كُلُّهُمْ سَمِعُوا زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَتَانِي جِبْرِيلُ فَبَشَّرَنِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ، قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى، وَإِنْ سَرَقَ؟ قَالَ: نَعَمْ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وفي الباب عن أَبِي الدَّرْدَاءِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
”میرے پاس جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور مجھے بشارت دی کہ جو شخص اس حال میں مر گیا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا تو وہ جنت میں جائے گا
“، میں نے کہا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو؟ آپ نے فرمایا:
”ہاں
“، (اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو)
۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں ابو الدرداء سے بھی روایت ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب الإيمان عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2644] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الاستقراض 3 (2388)، و بدء الخلق 6 (3222)، والاستئذان 30 (6268)، والرقاق 13 (6443)، و 14 (6444)، والتوحید 33 (7487)، صحیح مسلم/الإیمان 40 (94)، والزکاة 9 (94/32) (تحفة الأشراف: 11915)، و مسند احمد (5/159) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس کی صورت یہ ہو گی کہ وہ زنا اور چوری کی اپنی سزا کاٹ کر اپنے موحد ہونے کے صلہ میں لامحالہ جنت میں جائے گا، یا ممکن ہے رب العالمین اپنی رحمت سے اسے معاف کر دے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، الصحيحة (826)
الحكم: صحيح، الصحيحة (826)