مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي رَجَاءٍ ، سَمْرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ ، عَوْفٍ ، وَجَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، أَبِي رَجَاءٍ ، سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، عَنْ سَمْرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمِ " إِذَا صَلَّى بِنَا الصُّبْحَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ بِوَجْهِهِ، وَقَالَ: هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمُ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا؟ "، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَيُروى هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَوْفٍ، وَجَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمُ فِي قِصَّةٍ طَوِيلَةٍ، قَالَ: وَهَكَذَا رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ مُخْتَصَرًا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب ہمیں فجر پڑھا کر فارغ ہوتے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اور فرماتے:
”کیا تم میں سے کسی نے آج رات کوئی خواب دیکھا ہے؟
“۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- یہ حدیث ایک طویل قصے کے ضمن میں عوف اور جریر بن حازم سے مروی ہے، جسے یہ دونوں رجاء سے، رجاء، سمرہ سے اور سمرہ نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں
۳- محمد بن بشار نے اسی طرح یہ حدیث وہب بن جریر سے اختصار کے ساتھ روایت کی ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2294] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الجنائز 93 (1386)، والتعبیر 48 (7047)، صحیح مسلم/الرؤیا 4 (2275) (تحفة الأشراف: 4630) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح، التعليق الرغيب (1 / 198 - 199)
الحكم: صحيح، التعليق الرغيب (1 / 198 - 199)