بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 2288 — باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا خواب میں ترازو اور ڈول دیکھنے کا بیان۔
کتب جامع ترمذی کتاب: خواب کے آداب و احکام باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا خواب میں ترازو اور ڈول دیکھنے کا بیان۔ حدیث 2288
حدیث نمبر: 2288 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ ، يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَرَقَةَ، فَقَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ: إِنَّهُ كَانَ صَدَّقَكَ، وَلَكِنَّهُ مَاتَ قَبْلَ أَنْ تَظْهَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُرِيتُهُ فِي الْمَنَامِ، وَعَلَيْهِ ثِيَابٌ بَيَاضٌ وَلَوْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ لَكَانَ عَلَيْهِ لِبَاسٌ غَيْرُ ذَلِكَ "، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَعُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَيْسَ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ بِالْقَوِيِّ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ورقہ (ورقہ بن نوفل) کے بارے میں پوچھا گیا تو خدیجہ نے کہا: انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تصدیق کی تھی مگر وہ آپ کی نبوت کے ظہور سے پہلے وفات پا گئے، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے خواب میں انہیں دکھایا گیا ہے، اس وقت ان کے جسم پر سفید کپڑے تھے، اگر وہ جہنمی ہوتے تو ان کے جسم پر کوئی دوسرا لباس ہوتا ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث غریب ہے،
۲- محدثین کے نزدیک عثمان بن عبدالرحمٰن قوی نہیں ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2288]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 16536) (ضعیف) (سند میں عثمان بن عبد الرحمن متروک الحدیث راوی ہے، خود متن سے بھی اس حدیث کا منکر ہونا واضح ہے)»
وضاحت
۱؎: اس حدیث میں دلیل ہے کہ اگر کوئی مسلمان خواب میں اپنے کسی مرے ہوئے مسلمان بھائی کے جسم پر سفید کپڑا دیکھے تو یہ اس کے حسن حال کی پیشین گوئی ہے کہ وہ جنتی ہے، ورقہ بن نوفل خدیجہ رضی الله عنہا کے چچیرے بھائی تھے انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا حال سن کر آپ کی رسالت کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ جو فرشتہ تمہارے پاس آتا ہے وہ ناموس اکبر ہے، اپنے بڑھاپے پر افسوس کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر میں زندہ رہا تو اس وقت آپ کا ساتھ ضرور دوں گا جس وقت آپ کی قوم آپ کو گھر سے نکال دے گی۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف، المشكاة (4623) // ضعيف الجامع الصغير (792) //
قال الشيخ زبير على زئي
(2288) إسناده ضعيف
قال الذهبي: ”عثمان هو الوقاضي: متروك“ (تلخيص المستدرك للحاكم 393/4) وللحديث شواهد ضعيفة عند أحمد (65/6) والحاكم (609/2) وغيرهما
الحكم: ضعيف، المشكاة (4623) // ضعيف الجامع الصغير (792) //
← پچھلی حدیث (2287) باب پر واپس اگلی حدیث (2289) →