بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: پکا ہوا لہسن کھانے کی اجازت کا بیان۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: کھانے کے احکام و مسائل باب: پکا ہوا لہسن کھانے کی اجازت کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 1808 جامع ترمذی
مُحَمَّدُ بْنُ مَدُّوَيْهِ ، مُسَدَّدٌ ، الْجَرَّاحُ بْنُ مَلِيحٍ ، أَبِي إِسْحَاق ، شَرِيكِ بْنِ حَنْبَلٍ ، عَلِيٍّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَدُّوَيْهِ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْجَرَّاحُ بْنُ مَلِيحٍ وَالِدُ وَكِيعٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ شَرِيكِ بْنِ حَنْبَلٍ، عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ قَالَ: " نُهِيَ عَنْ أَكْلِ الثُّومِ إِلَّا مَطْبُوخًا ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ لہسن کھانے سے منع کیا گیا ہے سوائے اس کے کہ وہ پکا ہوا ہو ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1808]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/ الأطعمة 41 (3828)، (تحفة الأشراف: 10127) (صحیح) (سند میں ابواسحاق سبیعی مختلط اور مدلس راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، الإرواء: 2512)»
وضاحت
۱؎: پکنے سے اس میں پائی جانے والی بو ختم ہو جاتی ہے، اس لیے اسے کھا کر مسجد جانے میں کوئی حرج نہیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، الإرواء (2512)
قال الشيخ زبير على زئي
(1808) إسناده ضعيف / د 3828
الحكم: صحيح، الإرواء (2512)
حدیث نمبر: 1809 جامع ترمذی
هَنَّادٌ ، وَكِيعٌ ، أَبِيهِ ، أَبِي إِسْحَاق ، شَرِيكِ بْنِ حَنْبَلٍ ، عَلِيٍّ
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ شَرِيكِ بْنِ حَنْبَلٍ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: " لَا يَصْلُحُ أَكْلُ الثُّومِ إِلَّا مَطْبُوخًا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِذَلِكَ الْقَوِيِّ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا عَنْ عَلِيٍّ قَوْلُهُ، وَرُوِي عَنْ شَرِيكِ بْنِ حَنْبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، قَالَ مُحَمَّدٌ الْجَرَّاحُ بْنُ مَلِيحٍ صَدُوقٌ، وَالْجَرَّاحُ بْنُ الضَّحَّاكِ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
شریک بن حنبل سے روایت ہے کہ علی رضی الله عنہ لہسن کھانا مکروہ سمجھتے تھے، سوائے اس کے کہ وہ پکا ہوا ہو۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- اس حدیث کی سند زیادہ قوی نہیں ہے، یہ علی رضی الله عنہ کا قول ہے،
۲- شریک بن حنبل کے واسطہ سے یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مرسل طریقہ سے بھی آئی ہے،
۳- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: راوی جراح بن ملیح صدوق ہیں اور جراح بن ضحاک مقارب الحدیث ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1809]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«(تحفة الأشراف: 10127) (ضعیف) (سند میں ابو اسحاق سبیعی مدلس اور مختلط راوی ہیں)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف، الإرواء (2512)
قال الشيخ زبير على زئي
(1809) إسناده ضعيف موقوف
أبو إسحاق عنعن (تقدم: 107) واختلط ولا يعرف سماع الجراح منه : أقبل اختلاطه أم بعد؟
الحكم: ضعيف، الإرواء (2512)
حدیث نمبر: 1810 جامع ترمذی
الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، أَبِيهِ ، أُمَّ أَيُّوبَ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أُمَّ أَيُّوبَ أَخْبَرَتْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَزَلَ عَلَيْهِمْ فَتَكَلَّفُوا لَهُ طَعَامًا فِيهِ مِنْ بَعْضِ هَذِهِ الْبُقُولِ فَكَرِهَ أَكْلَهُ "، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: " كُلُوهُ فَإِنِّي لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ إِنِّي أَخَافُ أَنْ أُوذِيَ صَاحِبِي "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَأُمُّ أَيُّوبَ هِيَ امْرَأَةُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام ایوب انصاری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (ہجرت کے بعد) ان کے گھر ٹھہرے، ان لوگوں نے آپ کے لیے پرتکلف کھانا تیار کیا جس میں کچھ ان سبزیوں (گندنا وغیرہ) میں سے تھی، چنانچہ آپ نے اسے کھانا ناپسند کیا اور صحابہ سے فرمایا: تم لوگ اسے کھاؤ، اس لیے کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں، میں ڈرتا ہوں کہ میں اپنے رفیق (جبرائیل) کو تکلیف پہچاؤں۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے،
۲- ام ایوب ابوایوب انصاری کی بیوی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1810]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابن ماجہ/الأطعمة 59 (3364)، (تحفة الأشراف: 18304) (حسن)»
قال الشيخ الألباني
حسن، ابن ماجة (3364)
الحكم: حسن، ابن ماجة (3364)
حدیث نمبر: 1811 جامع ترمذی
مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، أَبِي خَلْدَةَ ، أَبِي الْعَالِيَةِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ أَبِي خَلْدَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، قَالَ: " الثُّومُ مِنْ طَيِّبَاتِ الرِّزْقِ "، وَأَبُو خَلْدَةَ اسْمُهُ خَالِدُ بْنُ دِينَارٍ وَهُوَ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ وَقَدْ أَدْرَكَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَسَمِعَ مِنْهُ وَأَبُو الْعَالِيَةِ اسْمُهُ رُفَيْعٌ هُوَ الرِّيَاحِيُّ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ كَانَ أَبُو خَلْدَةَ خِيَارًا مُسْلِمًا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوالعالیہ کہتے ہیں کہ لہسن حلال رزق ہے۔ ابوخلدہ کا نام خالد بن دینار ہے، وہ محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں، انہوں نے انس بن مالک سے ملاقات کی ہے اور ان سے حدیث سنی ہے، ابوالعالیہ کا نام رفیع ہے اور یہ رفیع ریاحی ہیں، عبدالرحمٰن بن مہدی کہتے ہیں: ابوخلدہ ایک نیک مسلمان تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1811]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف: 18646) (ضعیف الإسناد) (سند میں محمد بن حمید رازی ضعیف راوی ہیں)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي
(1811) إسناده ضعيف
محمد بن حميد ضعيف ( تقدم:85)
الحكم: ضعيف الإسناد مقطوع