بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: باپ کی بیوی سے شادی کرنے والے پر وارد سختی کا بیان۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے احکامات اور فیصلے باب: باپ کی بیوی سے شادی کرنے والے پر وارد سختی کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1362 جامع ترمذی
أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، أَشْعَثَ ، عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، الْبَرَاءِ ، أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، الْبَرَاءِ ، أَشْعَثَ ، عَدِيٍّ ، يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ ، أَبِيهِ ، أَشْعَثَ ، عَدِيٍّ ، يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ ، خَالِهِ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ , عَنْ أَشْعَثَ , عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ , عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ: مَرَّ بِي خَالِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ وَمَعَهُ لِوَاءٌ , فَقُلْتُ: أَيْنَ تُرِيدُ , قَالَ: " بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ , أَنْ آتِيَهُ بِرَأْسِهِ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ قُرَّةَ الْمُزَنِيِّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ الْبَرَاءِ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ , وَقَدْ رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق , هَذَا الْحَدِيثَ عن عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ الْبَرَاءِ , وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَشْعَثَ , عَنْ عَدِيٍّ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ , عَنْ أَبِيهِ , وَرُوِي عن أَشْعَثَ , عَنْ عَدِيٍّ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ , عَنْ خَالِهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میرے ماموں ابوبردہ بن نیار رضی الله عنہ میرے پاس سے گزرے اور ان کے ہاتھ میں ایک جھنڈا تھا، میں نے پوچھا: آپ کہاں کا ارادہ رکھتے ہیں؟ کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک ایسے شخص کے پاس بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی (دوسری) بیوی سے شادی کر رکھی ہے تاکہ میں اس کا سر لے کر آؤں۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- براء کی حدیث حسن غریب ہے،
۲- محمد بن اسحاق نے بھی اس حدیث کو عدی بن ثابت سے اور عدی نے عبداللہ بن یزید سے اور عبداللہ نے براء رضی الله عنہ سے روایت کی ہے،
۳- یہ حدیث اشعث سے بھی مروی ہے انہوں نے عدی سے اور عدی نے یزید بن براء سے اور یزید نے براء رضی الله عنہ سے روایت کی ہے،
۴- نیز یہ اشعث سے مروی ہے انہوں نے عدی سے اور عدی نے یزید بن البراء سے اور یزید نے اپنے ماموں سے اور ان کے ماموں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی ہے،
۵- اس باب میں قرہ مزنی سے بھی روایت ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأحكام عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1362]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/ الحدود 27 (4456)، 4457)، سنن النسائی/النکاح 58 (3333)، سنن ابن ماجہ/الحدود 35 (2607)، (تحفة الأشراف: 15534)، و مسند احمد (4/292، 295، 297) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (2607)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (2607)