بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: راستے کے سلسلہ میں جب اختلاف ہو تو اسے کتنا چھوڑا جائے؟
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے احکامات اور فیصلے باب: راستے کے سلسلہ میں جب اختلاف ہو تو اسے کتنا چھوڑا جائے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1355 جامع ترمذی
أَبُو كُرَيْبٍ ، وَكِيعٌ ، الْمُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ الضُّبَعِيِّ ، قَتَادَةَ ، بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ الْمُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ الضُّبَعِيِّ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اجْعَلُوا الطَّرِيقَ سَبْعَةَ أَذْرُعٍ ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: راستہ سات ہاتھ (چوڑا) رکھو۔ [سنن ترمذي/كتاب الأحكام عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1355]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 12218)، وانظر ما یأتي (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (2338)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (2338)
حدیث نمبر: 1356 جامع ترمذی
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ ، بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ الْعَدَوِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَتَادَةَ ، بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ الْعَدَوِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا تَشَاجَرْتُمْ فِي الطَّرِيقِ , فَاجْعَلُوهُ سَبْعَةَ أَذْرُعٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ وَكِيعٍ. قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ الْعَدَوِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَهُوَ غَيْرُ مَحْفُوظٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب راستے کے سلسلے میں تم میں اختلاف ہو تو اسے سات ہاتھ (چوڑا) رکھو ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ (سابقہ) وکیع کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے،
۲- بشیر بن کعب کی حدیث جسے انہوں نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے حسن صحیح ہے، اور بعض نے اسے قتادہ سے اور قتادہ نے بشیر بن نہیک سے اور بشیر نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے اور یہ غیر محفوظ ہے،
۳- اس باب میں ابن عباس سے بھی روایت ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأحكام عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1356]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/المظالم 29 (2473)، صحیح مسلم/المساقاة 31 (البیوع 52)، (1613)، سنن ابی داود/ الأقضیة 31 (3633)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 16 (2338)، (تحفة الأشراف: 12223)، و مسند احمد (2/466) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: سات ہاتھ راستہ آدمیوں اور جانوروں کے آنے جانے کے لیے کافی ہے، جسے دونوں فریق کو مل کر چھوڑنا چاہیئے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح