بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: عورت سے عام طور پر تین باتوں کے سبب نکاح کیا جاتا ہے۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: نکاح کے احکام و مسائل باب: عورت سے عام طور پر تین باتوں کے سبب نکاح کیا جاتا ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1086 جامع ترمذی
أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى ، إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَطَاءٍ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الْمَرْأَةَ تُنْكَحُ عَلَى دِينِهَا، وَمَالِهَا، وَجَمَالِهَا، فَعَلَيْكَ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، وَعَائِشَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَأَبِي سَعِيدٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عورت سے نکاح اس کی دین داری، اس کے مال اور اس کی خوبصورتی کی وجہ سے کیا جاتا ہے ۱؎ لیکن تو دیندار (عورت) سے نکاح کو لازم پکڑ لو ۲؎ تمہارے دونوں ہاتھ خاک آلود ہوں ۳؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- جابر کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں عوف بن مالک، ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا، عبداللہ بن عمرو، اور ابو سعید خدری رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب النكاح عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1086]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف، وانظر: سنن الدارمی/النکاح 4 (2217) (تحفة الأشراف: 2444) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح مسلم/الرضاع 15 (715/54)، سنن النسائی/النکاح 10 (3228)، مسند احمد (3/302) بتغیر یسیر فی السیاق۔»
وضاحت
۱؎: بخاری و مسلم کی روایت میں چار چیزوں کا ذکر ہے، چوتھی چیز اس کا حسب نسب اور خاندانی شرافت ہے۔
۲؎: یہ حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ دیندار عورت ہی صحیح معنوں میں نیک چلن، شوہر کی اطاعت گزار اور وفادار ہوتی ہے جس سے انسان کی معاشرتی زندگی میں خوش گواری آتی ہے اور اس کی گود میں جو نسل پروان چڑھتی وہ بھی صالح اور دیندار ہوتی ہے، اس کے برعکس باقی تین قسم کی عورتیں عموماً انسان کے لیے زحمت اور اولاد کے لیے بھی بگاڑ کا باعث ہوتی ہیں۔
۳؎: یہاں بد دعا مراد نہیں بلکہ شادی کے لیے جدوجہد اور سعی و کوشش پر ابھارنا مقصود ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (1858)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (1858)