بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: شادی کرنے کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: نکاح کے احکام و مسائل باب: شادی کرنے کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1080 جامع ترمذی
سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، الْحَجَّاجِ ، مَكْحُولٍ ، أَبِي الشِّمَالِ ، أَبِي أَيُّوبَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ الْحَجَّاجِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي الشِّمَالِ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرْبَعٌ مِنْ سُنَنِ الْمُرْسَلِينَ: الْحَيَاءُ، وَالتَّعَطُّرُ، وَالسِّوَاكُ، وَالنِّكَاحُ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عُثْمَانَ، وَثَوْبَانَ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَعَائِشَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَأَبِي نَجِيحٍ، وَجَابِرٍ، وَعَكَّافٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي أَيُّوبَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: چار باتیں انبیاء و رسل کی سنت میں سے ہیں: حیاء کرنا، عطر لگانا، مسواک کرنا اور نکاح کرنا ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے - [سنن ترمذي/كتاب النكاح عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1080]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (3499)، وانظر: مسند احمد (5/421) (ضعیف) (سند میں ابو الشمال مجہول راوی ہیں، لیکن اس حدیث کے معنی کی تائید دیگر طرق سے موجود ہے)»
وضاحت
۱؎: یعنی رسولوں نے خود اسے کیا ہے اور لوگوں کو اس کی ترغیب دی ہے، رسولوں کی سنت اسے تغلیباً کہا گیا ہے کیونکہ ان میں کچھ چیزیں ایسی ہیں جنہیں بعض رسولوں نے نہیں کیا ہے مثلاً نوح علیہ السلام نے ختنہ نہیں کرایا اور عیسیٰ علیہ السلام نے شادی نہیں کی۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف، المشكاة (382) ، الإرواء (75) ، الرد على الكتاني ص (12) // ضعيف الجامع الصغير (760) //
قال الشيخ زبير على زئي
(1080) إسناده ضعيف
أبوالشمال : مجھول (تق:8161) وللحديث شواھد ضعيفه
الحكم: ضعيف، المشكاة (382) ، الإرواء (75) ، الرد على الكتاني ص (12) // ضعيف الجامع الصغير (760) //
حدیث نمبر: 1081 جامع ترمذی
مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشُ ، عُمَارَةَ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَالْمُحَارِبِيُّ ، الْأَعْمَشِ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَابٌ لَا نَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ، فَقَالَ: " يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ، عَلَيْكُمْ بِالْبَاءَةِ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّ الصَّوْمَ لَهُ وِجَاءٌ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عُمَارَةَ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ هَذَا، وَرَوَى أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَالْمُحَارِبِيُّ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: كِلَاهُمَا صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہم نوجوان تھے، ہمارے پاس (شادی وغیرہ امور میں سے) کسی چیز کی مقدرت نہ تھی۔ تو آپ نے فرمایا: اے نوجوانوں کی جماعت! تمہارے اوپر ۱؎ نکاح لازم ہے، کیونکہ یہ نگاہ کو نیچی کرنے والا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا ہے۔ اور جو تم میں سے نکاح کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو اس پر صوم کا اہتمام ضروری ہے، کیونکہ روزہ اس کے لیے ڈھال ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس سند سے کئی لوگوں نے اسی کے مثل اعمش سے روایت کی ہے،
۳- اور ابومعاویہ اور محاربی نے یہ حدیث بطریق: «الأعمش عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله عن النبي صلى الله عليه و آله وسلم» اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے،
۴- دونوں حدیثیں صحیح ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب النكاح عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1081]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/النکاح 3 (5066)، صحیح مسلم/النکاح 1 (1400)، سنن النسائی/الصوم 43 (2241، 2244)، والنکاح 3 (3211، 3212)، مسند احمد 1/424، 425، 432) (تحفة الأشراف: 9385)، سنن الدارمی/النکاح 2 (2211) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الصوم 10 (1905)، والنکاح 2 (5065)، صحیح مسلم/النکاح (المصدر المذکور)، سنن ابی داود/ الصوم 1 (2046)، سنن ابن ماجہ/الصوم 1 (1845)، (سنن النسائی/الصیام 43 (2242، 2243، 2245)، والنکاح 3 (3208، 3210، 3213)، مسند احمد (1/378)، سنن الدارمی/النکاح 2 (2212) من غیر ہذا الوجہ۔»
وضاحت
۱؎: «البائة» کے اصل معنی جماع کے ہیں لیکن یہاں «مسبب» بول کر سبب (یعنی نکاح اور اس کے مصارف برداشت کرنے کی طاقت) مراد لیا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (1845)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (1845)