هَنَّادٌ ، وَكِيعٌ ، طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَقَالَ: " هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ "، قَالَتْ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: " فَإِنِّي صَائِمٌ ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک دن میرے پاس آئے اور آپ نے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس کچھ (کھانے کو) ہے“ میں نے عرض کیا: نہیں، تو آپ نے فرمایا: ”تو میں روزے سے ہوں“۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 733]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الصیام 32 (1154)، سنن ابی داود/ الصیام 72 (2455)، سنن النسائی/الصیام 67 (2324)، سنن ابن ماجہ/الصیام 26 (1701)، (تحفة الأشراف: 17872)، مسند احمد (6/49، 207) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح، الإرواء (965) ، صحيح أبي داود (2119)
الحكم: حسن صحيح، الإرواء (965) ، صحيح أبي داود (2119)