مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، سُفْيَانَ ، طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينِي، فَيَقُولُ: " أَعِنْدَكِ غَدَاءٌ " فَأَقُولُ: لَا، فَيَقُولُ: " إِنِّي صَائِمٌ "، قَالَتْ: فَأَتَانِي يَوْمًا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ قَدْ أُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ، قَالَ: " وَمَا هِيَ؟ " قَالَتْ: قُلْتُ: حَيْسٌ، قَالَ: " أَمَا إِنِّي قَدْ أَصْبَحْتُ صَائِمًا " قَالَتْ: ثُمَّ أَكَلَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس آتے تو پوچھتے:
”کیا تمہارے پاس کھانا ہے؟
“ میں کہتی: نہیں۔ تو آپ فرماتے:
”تو میں روزے سے ہوں
“، ایک دن آپ میرے پاس تشریف لائے تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے پاس ایک ہدیہ آیا ہے۔ آپ نے پوچھا:
”کیا چیز ہے؟
“ میں نے عرض کیا:
”حیس
“، آپ نے فرمایا:
”میں صبح سے روزے سے ہوں
“، پھر آپ نے کھا لیا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب الصيام عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 734] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ (حسن صحیح)»
وضاحت
۱؎: ایک قسم کا کھانا جو کھجور، ستّو اور گھی سے تیار کیا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح، الإرواء (965) ، صحيح أبي داود (2119)
الحكم: حسن صحيح، الإرواء (965) ، صحيح أبي داود (2119)