بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: مغرب کے بعد نفل نماز اور چھ رکعت پڑھنے کی فضیلت کا بیان۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: نماز میں سہو و نسیان سے متعلق احکام و مسائل باب: مغرب کے بعد نفل نماز اور چھ رکعت پڑھنے کی فضیلت کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 435 جامع ترمذی
أَبُو كُرَيْبٍ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيَّ ، زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عُمَرُ بْنُ أَبِي خَثْعَمٍ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيَّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي خَثْعَمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى بَعْدَ الْمَغْرِبِ سِتَّ رَكَعَاتٍ لَمْ يَتَكَلَّمْ فِيمَا بَيْنَهُنَّ بِسُوءٍ عُدِلْنَ لَهُ بِعِبَادَةِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ صَلَّى بَعْدَ الْمَغْرِبِ عِشْرِينَ رَكْعَةً بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ " قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ الْحُبَابِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي خَثْعَمٍ، قَالَ: وسَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل، يَقُولُ: عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي خَثْعَمٍ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ وَضَعَّفَهُ جِدًّا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مغرب کے بعد چھ رکعتیں پڑھیں اور ان کے درمیان کوئی بری بات نہ کی، تو ان کا ثواب بارہ سال کی عبادت کے برابر ہو گا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- عائشہ رضی الله عنہا سے مروی ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا: جس نے مغرب کے بعد بیس رکعتیں پڑھیں اللہ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا،
۲- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف «زيد بن حباب عن عمر بن أبي خثعم» کی سند سے جانتے ہیں،
۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ عمر بن عبداللہ بن ابی خثعم منکرالحدیث ہیں۔ اور انہوں نے انہیں سخت ضعیف کہا ہے۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 435]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابن ماجہ/الإقامة 113 (1167) (تحفة الأشراف: 15412) (ضعیف جداً) (سند میں عمر بن عبداللہ بن ابی خثعم نہایت ضعیف راوی ہے)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف جدا، ابن ماجة (1167) // ضعيف سنن ابن ماجة (244) ، الضعيفة (469) ، الروض النضير (719) ، التعليق الرغيب (1 / 204) ، ضعيف الجامع الصغير (5661) //
قال الشيخ زبير على زئي
(435) إسناده ضعيف جدًا /جه 1167 ، 1374
عمر بن أبى خثعم ضعيف (تق:4928) منكر الحديث ، كما قال البخاري وغيره وحديث: ” من صلى بعد المغرب عشرين ركعة “ موضوع أخرجه ابن ماجه (1373)
الحكم: ضعيف جدا، ابن ماجة (1167) // ضعيف سنن ابن ماجة (244) ، الضعيفة (469) ، الروض النضير (719) ، التعليق الرغيب (1 / 204) ، ضعيف الجامع الصغير (5661) //