بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 77 — باب: نیند سے وضو کا بیان۔
کتب جامع ترمذی کتاب: طہارت کے احکام و مسائل باب: نیند سے وضو کا بیان۔ حدیث 77
إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى ، وَهَنَّادٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ ، عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ الْمُلَائِيُّ ، أَبِي خَالِدٍ الدَّالَانِيِّ ، قَتَادَةَ ، أَبِي الْعَالِيَةِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى كُوفِيٌّ، وَهَنَّادٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ الْمَعْنَى وَاحِدٌ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ الْمُلَائِيُّ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الدَّالَانِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَامَ وَهُوَ سَاجِدٌ حَتَّى غَطَّ أَوْ نَفَخَ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ قَدْ نِمْتَ، قَالَ: " إِنَّ الْوُضُوءَ لَا يَجِبُ إِلَّا عَلَى مَنْ نَامَ مُضْطَجِعًا، فَإِنَّهُ إِذَا اضْطَجَعَ اسْتَرْخَتْ مَفَاصِلُهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَأَبُو خَالِدٍ اسْمُهُ: يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ سجدے کی حالت میں سو گئے یہاں تک کہ آپ خرانٹے لینے لگے، پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ تو سو گئے تھے؟ آپ نے فرمایا: وضو صرف اس پر واجب ہوتا ہے جو چت لیٹ کر سوئے اس لیے کہ جب آدمی لیٹ جاتا ہے تو اس کے جوڑ ڈھیلے ہو جاتے ہیں ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
اس باب میں عائشہ، ابن مسعود، اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 77]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/ الطہارة 80 (202)، (تحفة الأشراف: 5425)، مسند احمد (1/245، 343) (ضعیف) (ابو خالد یزید بن عبدالرحمن دارمی دالانی مدلس ہیں، انہیں بہت زیادہ وہم ہو جایا کرتا تھا، شعبہ کہتے ہیں کہ قتادہ نے یہ حدیث ابو العالیہ سے نہیں سنی ہے یعنی اس میں انقطاع بھی ہے)»
وضاحت
۱؎: چت لیٹنے کی صورت میں ہوا کے خارج ہونے کا شک بڑھ جاتا ہے جب کہ ہلکی نیند میں ایسا نہیں ہوتا، یہ حدیث اگرچہ سند کے اعتبار سے ضعیف ہے، مگر اس کے لیٹ کر سونے سے وضو ٹوٹ جانے والے ٹکڑے کی تائید دیگر روایات سے ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف، ضعيف أبي داود (25) ، المشكاة (318) ، // ضعيف الجامع (1808) //
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده ضعيف / د 202
الحكم: ضعيف، ضعيف أبي داود (25) ، المشكاة (318) ، // ضعيف الجامع (1808) //
← پچھلی حدیث (76) باب پر واپس اگلی حدیث (78) →