مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ صَلَاةَ أَحَدِكُمْ إِذَا أَحْدَثَ حَتَّى يَتَوَضَّأَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:
”جب تم میں کسی کو
«حدث» ہو جائے (یعنی اس کا وضو ٹوٹ جائے)
۱؎ تو اللہ اس کی نماز قبول نہیں کرتا جب تک کہ وہ وضو نہ کر لے
“۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 76] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الوضوء 2 (135)، والحیل 2 (6954)، صحیح مسلم/الطہارة 2 (225)، سنن ابی داود/ الطہارة 31 (تحفة الأشراف: 14694)، مسند احمد (2/318) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اسی جملہ میں باب سے مطابقت ہے، یعنی: ہوا کے خارج ہونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، صحيح أبي داود (54)
الحكم: صحيح، صحيح أبي داود (54)