بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 696 — باب: کس چیز سے روزہ کھولنا مستحب ہے؟
کتب جامع ترمذی کتاب: روزوں کے احکام و مسائل باب: کس چیز سے روزہ کھولنا مستحب ہے؟ حدیث 696
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثَابِتٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفْطِرُ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَى رُطَبَاتٍ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ رُطَبَاتٌ فَتُمَيْرَاتٌ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تُمَيْرَاتٌ حَسَا حَسَوَاتٍ مِنْ مَاءٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَرُوِيَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُفْطِرُ فِي الشِّتَاءِ عَلَى تَمَرَاتٍ، وَفِي الصَّيْفِ عَلَى الْمَاءِ ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (مغرب) پڑھنے سے پہلے چند تر کھجوروں سے افطار کرتے تھے، اور اگر تر کھجوریں نہ ہوتیں تو چند خشک کھجوروں سے اور اگر خشک کھجوریں بھی میسر نہ ہوتیں تو پانی کے چند گھونٹ پی لیتے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،
۲- اور یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سردیوں میں چند کھجوروں سے افطار کرتے اور گرمیوں میں پانی سے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 696]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/ الصیام 21 (2356)، (تحفة الأشراف: 265) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح، الإرواء (922) ، الصحيح (2040)
الحكم: صحيح، الإرواء (922) ، الصحيح (2040)
← پچھلی حدیث (695) باب پر واپس اگلی حدیث (697) →