بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 695 — باب: کس چیز سے روزہ کھولنا مستحب ہے؟
کتب جامع ترمذی کتاب: روزوں کے احکام و مسائل باب: کس چیز سے روزہ کھولنا مستحب ہے؟ حدیث 695
مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، هَنَّادٌ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، قُتَيْبَةُ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، الرَّبَاب ، سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ح. وَحَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ. وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ الرَّبَاب، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ زَادَ ابْنُ عُيَيْنَةَ فَإِنَّهُ بَرَكَةٌ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى مَاءٍ فَإِنَّهُ طَهُورٌ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سلمان بن عامر ضبی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی افطار کرے تو چاہیئے کہ کھجور سے افطار کرے کیونکہ اس میں برکت ہے اور جسے (کھجور) میسر نہ ہو تو وہ پانی سے افطار کرے کیونکہ یہ پاکیزہ چیز ہے ۲؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 695]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/ الصوم 21 (2355)، سنن ابن ماجہ/الصیام 25 (1699)، (تحفة الأشراف: 4486)، مسند احمد (4/، 17، 19، 213، 215)، سنن الدارمی/الصوم 12 (1773)، وانظر أیضا ما تقدم برقم 658 (ضعیف)»
وضاحت
۱؎: اگرچہ قولاً اس کی سند صحیح نہیں ہے، مگر فعلاً یہ حدیث دیگر طرق سے ثابت ہے۔
۲؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اگر افطار میں کھجور میسر ہو تو کھجور ہی سے افطار کرے کیونکہ یہ مقوی معدہ، مقوی اعصاب اور جسم میں واقع ہونے والی کمزوریوں کا بہترین بدل ہے اور اگر کھجور میّسر نہ ہو سکے تو پھر پانی سے افطار بہتر ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تازہ کھجور سے افطار کیا کرتے تھے اگر تازہ کھجور نہیں ملتی تو خشک کھجور سے افطار کرتے اور اگر وہ بھی نہ ملتی تو چند گھونٹ پانی سے افطار کرتے تھے۔ ان دونوں چیزوں کے علاوہ اجر و ثواب وغیرہ کی نیت سے کسی اور چیز مثلاً نمک وغیرہ سے افطار کرنا بدعت ہے، جو ملاؤں نے ایجاد کی ہے۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف
الحكم: ضعيف
← پچھلی حدیث (694) باب پر واپس اگلی حدیث (696) →