قُتَيْبَةُ ، اللَّيْثُ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا تَصَدَّقَ أَحَدٌ بِصَدَقَةٍ مِنْ طَيِّبٍ وَلَا يَقْبَلُ اللَّهُ إِلَّا الطَّيِّبَ إِلَّا أَخَذَهَا الرَّحْمَنُ بِيَمِينِهِ، وَإِنْ كَانَتْ تَمْرَةً تَرْبُو فِي كَفِّ الرَّحْمَنِ حَتَّى تَكُونَ أَعْظَمَ مِنَ الْجَبَلِ، كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فُلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ، وَعَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ , وَأَنَسٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، وَحَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَبُرَيْدَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
”جس نے بھی کسی پاکیزہ چیز کا صدقہ کیا اور اللہ پاکیزہ چیز ہی قبول کرتا ہے
۱؎ تو رحمن اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لیتا ہے
۲؎ اگرچہ وہ ایک کھجور ہی ہو، یہ مال صدقہ رحمن کی ہتھیلی میں بڑھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ پہاڑ سے بڑا ہو جاتا ہے، جیسے کہ تم میں سے ایک اپنے گھوڑے کے بچے یا گائے کے بچے کو پالتا ہے
“۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں ام المؤمنین عائشہ، عدی بن حاتم، انس، عبداللہ بن ابی اوفی، حارثہ بن وہب، عبدالرحمٰن بن عوف اور بریدہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
[سنن ترمذي/كتاب الزكاة عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 661] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الزکاة 8 (تعلیقا عقب حدیث رقم: 1410)، والتوحید 23 (تعلیقا عقب حدیث رقم: 7430)، صحیح مسلم/الزکاة 19 (1014)، سنن النسائی/الزکاة 48 (2526)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 28 (1842)، (تحفة الأشراف: 13379)، مسند احمد (2/331، 418، 538)، سنن الدارمی/الزکاة 35 (1717) (صحیح) وأخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة 8 (1410)، والتوحید 23 (7430)، وصحیح مسلم/الزکاة (المصدر المذکور)، و مسند احمد (2/381، 419، 431، 471، 541) من غیر ہذا الطریق»
وضاحت
۱؎: اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حرام صدقہ اللہ قبول نہیں کرتا ہے کیونکہ صدقہ دینے والا حرام کا مالک ہی نہیں ہوتا اس لیے اسے اس میں تصرف کرنے کا حق حاصل نہیں ہوتا۔
۲؎: «یمین» کا ذکر تعظیم کے لیے ہے ورنہ رحمن کے دونوں ہاتھ «یمین» ہی ہیں۔ قال الشيخ الألباني
صحيح ظلال الجنة (623) ، التعليق الرغيب، الإرواء (886)
الحكم: صحيح ظلال الجنة (623) ، التعليق الرغيب، الإرواء (886)