عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مُحَمَّدُ بْنُ الطُّفَيْلِ ، شَرِيكٍ ، أَبِي حَمْزَةَ ، عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ ، فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الطُّفَيْلِ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ فِي الْمَالِ حَقًّا سِوَى الزَّكَاةِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ إِسْنَادُهُ لَيْسَ بِذَاكَ، وَأَبُو حَمْزَةَ مَيْمُونٌ الْأَعْوَرُ يُضَعَّفُ، وَرَوَى بَيَانٌ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ سَالِمٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ هَذَا الْحَدِيثَ قَوْلَهُ وَهَذَا أَصَحُّ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
”مال میں زکاۃ کے علاوہ بھی حقوق ہیں
“۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- اس حدیث کی سند کوئی خاص نہیں ہے
۱؎،
۲- ابوحمزہ میمون الاعور کو ضعیف گردانا جاتا ہے،
۳- بیان اور اسماعیل بن سالم نے یہ حدیث شعبی سے روایت کی ہے اور اسے شعبی ہی کا قول قرار دیا ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب الزكاة عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 660] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ (ضعیف)»
وضاحت
۱؎: «إسناده ليس بذلك» الفاظ جرح میں سے ہے، اس کا تعلق مراتب جرح کے پہلے مرتبہ سے ہے، جو سب سے ہلکا مرتبہ ہے، ایسے راوی کی حدیث قابل اعتبار ہوتی ہے یعنی تقویت کے قابل اور اس کے لیے مزید روایات تلاش کی جا سکتی ہیں۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف أيضا //، المشكاة (1 / 597) ، ضعيف سنن ابن ماجة (397) //
قال الشيخ زبير على زئي
(659 ،660) إسناده ضعيف / جه 1789
أبوحمزة ميمون الأعور: ضعيف (تق:7057)
الحكم: ضعيف أيضا //، المشكاة (1 / 597) ، ضعيف سنن ابن ماجة (397) //