قُتَيْبَةُ ، هُشَيْمٌ ، مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ ، ابْنِ سِيرِينَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " خَرَجَ مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ لَا يَخَافُ إِلَّا اللَّهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ سے مکہ کے لیے نکلے، آپ کو سوائے اللہ رب العالمین کے کسی کا خوف نہ تھا۔ (اس کے باوجود) آپ نے دو ہی رکعتیں پڑھیں
۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
[سنن ترمذي/أبواب السفر/حدیث: 547] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن النسائی/تقصیر الصلاة 1 (1436)، (تحفة الأشراف: 6436)، مسند احمد (1/215، 236، 245، 262) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما اس سے یہ بتانا چاہتے ہیں کہ سفر میں قصر خوف کی وجہ سے نہیں ہے، جیسا کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں، سفر خواہ کیسا بھی پرامن ہو اس میں قصر رخصت ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، الإرواء (3 / 6)
الحكم: صحيح، الإرواء (3 / 6)